تہران، 7 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) کشیدگی جاری رہنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آنے کے درمیان فریقین کے مؤقف میں واضح اختلافات نظر آ رہے ہیں، خصوصاً جنگ بندی کی شرائط اور وقت کے تعین کے حوالے سے، جبکہ غیر علانیہ سفارتی اقدامات اور ثالث چینلز کے ذریعے پیغامات دینے کی کوششیں جاری ہیں۔
ایک ایرانی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ تہران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ اس طریقے یا ٹائم فریم کو قبول نہیں کرتا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اضافی ضمانتیں فراہم کی گئی ہیں، تاہم اس پیغام کی تفصیلات یا مواد سامنے نہیں آیا۔
اہلکار کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، چاہے ایران پر حملے رک جائیں، ایک خاص پروٹوکول کے تحت ہوگا جو اس بات کی پیمائش کرے گا کہ دوسرا فریق اپنی ذمہ داریوں پر کتنا عمل کر رہا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی کہ ایران جنگ ختم کرنا چاہتا ہے، لیکن اس نے دوبارہ دہرایا کہ یہ کام اس طریقے یا ٹائم فریم کے مطابق نہیں ہوگا جو ٹرمپ چاہتے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس جواب میں ایرانی حکام نے جنگ بندی سے انکار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جنگ کا خاتمہ مستقل طور پر ہونا چاہیے۔
اس جواب میں 10 نکات شامل تھے، جن میں خطے میں تنازعات کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کا پروٹوکول، پابندیوں کا خاتمہ اور دوبارہ تعمیر شامل ہیں۔
