Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ کی 48 گھنٹے کی وارننگ مسترد، ایران کی جوابی دھمکی

  • 05 Apr 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 5 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی مرکزی فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹوں کی مہلت اور سخت دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کی مشترکہ فوجی قیادت، ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیاء مرکزی کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی "عاجزانہ، تناؤ سے بھرپور اور غیر متوازن رویہ" کی عکاسی کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہ "جہنم نازل ہونے میں صرف 48 گھنٹے باقی ہیں"، ایرانی کمانڈر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "تمہارے لیے جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایران کو امریکی یا اسرائیلی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے زیر استعمال تمام بنیادی ڈھانچے کو بلا کسی پابندی مسلسل اور تباہ کن حملوں سے نشانہ بنائے گا۔

ایرانی کمانڈر کا کہنا تھا کہ مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اب تک کیے گئے وعدوں پر عمل کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اسی حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر ایران کو دی گئی مہلت کی یاد دہانی کراتے ہوئے خبردار کیا کہ جنگ کے خاتمے سے قبل اب صرف 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، بصورت دیگر سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا کہ ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مدت ختم ہونے والی ہے اور "جہنم" کے آغاز میں اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے تہران کو 6 اپریل 2026ء تک کی مہلت دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے، جسے 28 فروری 2026ء سے جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد عملاً بند رکھا گیا ہے، بصورت دیگر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی گئی تھی۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پلوں اور پاور اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے سے ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی دفاعی اہلکار نے کہا ہے کہ اسرائیل ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے، تاہم اس کے لیے امریکہ کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اسرائیلی اہلکار کے مطابق ممکنہ حملے آئندہ چند روز میں کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اس سے قبل بھی ٹرمپ ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

 

Ads