اس سے قبل سی بی ایس نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایک پائلٹ کو بچا کر دو امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔
اپنی سوشل میڈیا ایپ 'ٹروتھ سوشل' پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’میرے ساتھی امریکیوں، گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے امریکی تاریخ کے سب سے دلیرانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک کو انجام دیا ہے۔ یہ آپریشن ہمارے ایک زبردست کریو ممبر افسر کے لیے تھا، جو ایک انتہائی قابلِ احترام کرنل بھی ہیں۔ مجھے آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ وہ اب بالکل محفوظ اور خیریت سے ہیں‘‘
امریکی صدر نے مزید بتایا کہ فوج 24 گھنٹوں سے پائلٹ کی لوکیشن کی نگرانی کر رہی تھی۔ پائلٹ زخمی ہوا تھا، لیکن ٹرمپ کے مطابق اب اس کی حالت بہتر ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’میری ہدایت پر، امریکی فوج نے دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس درجنوں طیارے اسے واپس لانے کے لیے بھیجے۔ فوجی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دو امریکی پائلٹوں کو دشمن کے علاقے سے بچایا گیا ہے۔‘‘
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایران میں گرنے والا امریکی طیارہ ایک ایف-15 ای لڑاکا بمبار طیارہ تھا جس میں عملے کے دو ارکان سوار تھے۔ اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی 'تسنیم' نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی فوج نے شاید اس امریکی پائلٹ کو پکڑ لیا ہے جس نے طیارہ مار گرائے جانے کے بعد پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی تھی۔ تاہم، صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان نے پائلٹ کی بحفاظت واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔
