اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے کئی فوجی رہنما، جنہوں نے ان کے مطابق “غلط اور ناقص قیادت” کی، اس بڑے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملہ کب ہوا۔ انہوں نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں کسی مقام سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ ویڈیو نئی ہے یا پرانی، اور یہ کس جگہ کی ہے۔
یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ایران کو 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا، بصورت دیگر سخت نتائج کی دھمکی دی تھی۔ ایران نے اس الٹی میٹم کو مسترد کرتے ہوئے اسے “مایوس کن، غیر متوازن اور احمقانہ اقدام” قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے ایران کو پہلے ہی 10 دن کا وقت دیا تھا کہ وہ معاہدہ کرے، اور اب وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر 48 گھنٹوں میں پیش رفت نہ ہوئی تو سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیاء” کے جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو اس کا جواب مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی تنصیبات پر “تباہ کن اور مسلسل” حملوں کی صورت میں دیا جائے گا۔
یہ بیان ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے حوالے سے جاری کیا گیا ہے، جس میں امریکی صدر کے رویے کو جارحانہ اور جنگ پسند قرار دیا گیا۔
