Masarrat
Masarrat Urdu

ادائیگی کے مسائل کے باعث ایرانی تیل کے ٹینکر کا رخ چین موڑنے کی رپورٹ غلط : وزارتِ پیٹرولیم

Thumb

نئی دہلی، 04 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران سے خام تیل لانے والے ایک بحری جہاز کو 'ادائیگی کے مسائل' کی وجہ سے ہندوستان کے بجائے چین کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

وزارت نے ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ان خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ایرانی خام تیل کا کارگو ادائیگی کے تنازعہ کے باعث واڈینار (ہندوستان) سے چین منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزارت نے واضح کیا کہ ہندوستانی ریفائنریوں نے اپنی خام تیل کی ضروریات کو مکمل طور پر محفوظ کر لیا ہے، جس میں ایران سے سپلائی بھی شامل ہے، اور افواہوں کے برعکس ایرانی تیل کی درآمد کے لیے ادائیگی کی کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے۔

جمعرات کو جہاز رانی کی ٹریکنگ سائٹ کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ تقریباً چھ لاکھ بیرل خام تیل لے کر ایسواتینی کے جھنڈے والا ٹینکر 'پنگ شُن' ہندوستان کی واڈینار بندرگاہ کی طرف آ رہا ہے۔ جمعہ کو اسی سائٹ کے حوالے سے خبریں آئیں کہ یہ ٹینکر اب چین کی بندرگاہ ڈونگ ینگ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے بعد میڈیا میں اسے ادائیگی کے مسائل سے جوڑا گیا۔

وزارتِ پیٹرولیم نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ ہندوستان 40 سے زائد ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے اور کمپنیوں کو تجارتی بنیادوں پر مختلف ذرائع سے تیل حاصل کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ جہاز کے راستے کی تبدیلی کے دعووں میں تیل کی تجارت کے طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ 'بل آف لیڈنگ' میں اکثر کئی ممکنہ بندرگاہوں کے نام درج ہوتے ہیں اور سمندر میں جاری سفر کے دوران تجارتی ضرورت یا آپریشنل وجوہات کی بنا پر منزل بدلی جا سکتی ہے۔ یہ دوبارہ واضح کیا جاتا ہے کہ آنے والے مہینوں کے لیے ہندوستان کی خام تیل کی ضروریات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

وزارت نے ایل پی جی کے حوالے سے بھی غلط دعووں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایل پی جی جہاز "سی برڈ"، جو تقریباً 44 ٹن ایرانی ایل پی جی لے کر آیا ہے، 2 اپریل کو منگلور پہنچ چکا ہے اور فی الوقت وہاں مال اتارنے کا کام جاری ہے۔

 

Ads