Masarrat
Masarrat Urdu

جماعت اسلامی ہند کی اسمبلی انتخابات میں فرقہ وارانہ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے حقیقی ایشوز پر توجہ دینے کی اپیل

Thumb

نئی دہلی،4 اپریل (مسرت ڈاٹ  کام) جماعتِ اسلامی ہند کی اعلیٰ قیادت نے آج منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس میں مختلف قومی و بین الاقوامی معاملات پر اپنے موقف کا اظہار کیا، جن میں آنے والے ریاستی اسمبلی انتخابات، ایس آئی آر، مجوزہ ایف سی آر اے ترمیمی بل، اور ایران کے خلاف جاری جنگ شامل ہیں۔ یہ اطلاع ٓپریس کے لیے جاری ایک ریلیز میں دی گئی۔

اس موقع پر جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر، پروفیسر سلیم انجینئر نے مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالہ اور پونڈیچری کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ دینا آئینی حق کے ساتھ ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے، اس لیے رائے دہندگان روزگار، تعلیم، صحت اور سماجی انصاف جیسے حقیقی مسائل کی بنیاد پر فیصلے کریں اور تفرقہ انگیز سیاست کو مسترد کریں۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دولت، طاقت اور نفرت انگیز بیانیے کے استعمال سے گریز کریں اور اپنی انتخابی مہم کو عوامی فلاح پر مرکوز رکھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری عمل، شہری آزادیوں کا احترام اور قانون کی پاسداری ہی انصاف، امن اور استحکام کی ضمانت ہیں، اور تمام فریقین کو وسیع تر سماجی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘

جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر مسٹر ایس امین الحسن نے ’ایف سی آر اے ‘میں مجوزہ ترامیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات فراہم کر تی ہیں۔ انہوں نے خصوصاً اس شق پر اعتراض کیا جس کے تحت انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی مالی امداد سے قائم اداروں،جیسے اسکول، اسپتال اور فلاحی تنظیموں کے اثاثوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بغیر واضح نگرانی کے اختیارات کا ارتکاز سول سوسائٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور معمولی کوتاہیوں کو بھی بنیاد بنا کر اداروں کو ہراساں کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ سماجی اداروں میں شفافیت اور جوابدہی ضروری ہیں، تاہم یہ ترامیم اداروں کے کام میں غیر ضروری مداخلت اور عدل و انصاف کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مجوزہ ترامیم پر وسیع مشاورت کی جائے اور بل میں مناسب ترامیم کی جائیں تاکہ عوامی اعتماد اور فلاحی اداروں کی فعالیت برقرار رہ سکے۔‘‘

پروفیسر سلیم انجینئر نے بالخصوص مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں ’ ایس آئی آر‘کے جاری عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنائے، اور املا کی غلطیوں اور دفتری کوتاہیوں کی بنیاد پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور دیگر ادارے مل کر اس عمل میں عوام کی مدد کریں۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے بتایا کہ جماعتِ اسلامی ہند اس سلسلے میں تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور رضاکاروں کی تیاری، ہیلپ سینٹرز کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کا کام کر رہی ہے۔ ملک بھر میں ہیلپ سینٹرز اور ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے اب تک لاکھوں افراد کی مدد کی جا چکی ہے۔‘‘

مسٹر ایس امین الحسن نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے شہری علاقوں، بشمول اسکولوں، اسپتالوں اور رہائشی بستیوں پر حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا عالمی سطح پر جوابدہی طے ہونی چاہئے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مگر تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے حکومتِ ہند سے بھی اپیل کی کہ وہ کشیدگی میں کمی اور پُرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ کانفرنس میں جماعت کےقائدین نے صحافیوں کے متعدد سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

 

Ads