بیان کے مطابق،"جمشید اسحاقی اپنے خاندان کے کئی افراد کے ساتھ ایک مجرمانہ امریکی-صہیونی حملے میں شہید ہو گئے۔" یہ بیان ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی پر منگل کو جاری کیا گیا۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے مختلف مقامات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا اور شہری بھی متاثر ہوئے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
ابتدائی طور پر امریکہ اور اسرائیل نے اپنے "پیشگی حملے" کو ایران کے جوہری پروگرام سے لاحق خطرے کے خلاف ضروری قرار دیا، تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای فوجی کارروائی کے پہلے ہی دن مارے گئے تھے، جس کے بعد اسلامی جمہوریہ نے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے خامنہ ای کے قتل کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ روسی وزارتِ خارجہ نے امریکی-اسرائیلی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
