ڈاکٹر تسیپس کے مطابق ایران کا یورینیم مضبوط زیرِ زمین بنکروں میں محفوظ ہے، جہاں تک رسائی حاصل کرنا اور انہیں توڑنا نہایت مشکل کام ہے۔
مزید برآں، یورینیم ایک انتہائی خطرناک مادہ ہے جس کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کے پاس موجود سینکڑوں کلو گرام یورینیم کو نکالنے کے لیے بڑی مقدار میں خصوصی مشینری اور آلات درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کے دوران شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، اگر لوڈنگ کے دوران یورینیم کے کسی کنٹینر کو نقصان پہنچا تو اس سے قریبی علاقے میں تابکاری آلودگی پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
