ایرانی میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ نے ’نیو یارک پوسٹ‘ کے سوال پر کہاکہ"آپ جلد دیکھیں گے"، جس سے امریکی فوج کی بڑی کارروائی کا اشارہ ملا۔ انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جلد طے کرے گا کہ تہران کی قیادت بات چیت کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 28 فروری کے حملے میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے کچھ افراد کے مارے جانے کے بعد تہران میں اندرونی انتشار بڑھ گیا ہے، جس سے انہیں نمٹنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں انٹیلی جنس غیر واضح ہے، اور امکان ہے کہ وہ شدید زخمی ہیں کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے وہ عوامی طور پر نظر نہیں آئے۔ ٹرمپ نے کہاکہ "کسی نے انہیں نہیں دیکھا، وہ بہت بری حالت میں ہیں۔"
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکی شرائط پر جنگ ختم کرنے پر راضی نہ ہوا تو امریکہ ایران کے بنیادی توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا، جن میں بجلی گھر، آئل ویلز، برآمدی مراکز جیسے خَارگ جزیرہ اور پانی کی فراہمی کے لیے اہم ڈیسالینیشن پلانٹس شامل ہیں۔
تازہ کشیدگی کے عالمی اقتصادی اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ امریکہ میں پٹرول کی قیمت 4 ڈالر فی گیلن کے قریب پہنچ گئی ہے، جو کئی برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ جنگ کے طول پکڑنے سے اس کے خاتمے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔
