وزارت دفاع نے اپنے جاری کردہ بیان میں بتایا کہ ایران کی جانب سے اب تک فائر کیے گئے سیکڑوں میزائلوں اور ڈرونز کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 2 مقامی فوجیوں کے علاوہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش، فلسطین اور ہندوستان کے شہری بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
ان حملوں میں 178 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ ایران نے نہ صرف اسرائیل بلکہ سعودی عرب، کویت، اردن اور عراق سمیت دیگر ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی اپنے ڈرون اور میزائل حملوں کا ہدف بنایا ہے جس سے خطے کا سیکیورٹی ماحول کشیدہ ہو گیا ہے۔
کویت کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حملوں کے دوران ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 10 کویتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ ان تمام زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ فوجی تنصیبات کو بھی مادی نقصان پہنچا ہے۔
کویت کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کویتی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 ڈرونز داخل ہوئے جنہیں دفاعی نظام نے مانیٹر کیا۔ اس دوران بحرین کی حکومت نے بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنگ کے آغاز سے اب تک 174 میزائل اور 391 ڈرونز تباہ کیے ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان کارروائیوں میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز سمیت 2 ہزار سے زائد شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی بھی شامل ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں براہ راست جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ خلیجی ممالک اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں اور مسلسل اپنے دفاعی نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔
