مسٹر کھرگے نے کہا، "ایک طرف منریگا پر مؤثر طریقے سے پابندی جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، تو دوسری طرف اعلان کردہ 'وی بی-جے رام-جی' اسکیم اب تک نافذ نہیں ہو سکی ہے۔ کئی ریاستوں میں منریگا ختم کرنے کی خبریں ہیں جس کی وجہ سے کروڑوں مزدوروں کے سامنے روزگار کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔"
انہوں نے منریگا کے حوالے سے کئی ریاستوں میں احتجاجی تحریکیں چلنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ بہار کے مظفر پور میں گزشتہ 87 دنوں سے تقریباً 12 ہزار مزدور کام نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں سے منریگا کے تحت کام بند ہونے کی خبریں آ رہی ہیں، جس سے دیہی مزدوروں کے سامنے روزگار کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے منریگا کو کمزور کر کے کروڑوں مزدوروں سے ان کا 'کام کا حق' چھینا ہے اور محنت کشوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
مسٹر کھرگے نے مہاراشٹر کی کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی/کیگ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں منریگا کے تحت منظور شدہ کاموں میں سے 53 فیصد سے بھی کم کام گزشتہ پانچ برسوں میں مکمل ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 2.5 لاکھ کام شروع ہی نہیں ہو سکے۔ رسوئی گیس کی مہنگائی اور صنعتوں کی بدحالی کی وجہ سے شہروں سے مہاجر مزدوروں کی نقل مکانی بڑھ رہی ہے، لیکن گاؤں میں ان کے لیے روزگار کے کافی مواقع دستیاب نہیں ہیں۔
