سینٹکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بحری بیڑے کے ہمراہ ایک ٹرانسپورٹ اور سڑائیک فائتر ہوائی جہاز بھی ہے۔
اس سے قبل واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کے زمینی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ٹرمپ اس کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ رپورٹ کر رہا ہے کہ پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ زمینی فوج کی تعیناتی کے منصوبے کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرح کی زمینی کارروائیاں مکمل حملہ نہیں ہوں گی، بلکہ سپیشل آپریشنز فورسز اور روایتی پیادہ فورس کے ذریعے چھاپہ مار کارروائیاں کی جائیں گی۔
رپورٹس کے مطابق خلیج کی طرف جانے والے امریکی بحری جہازوں پر 4 ہزار سے زیادہ امریکی میرینز موجود ہیں جبکہ 82 ویں ایئر بورن کے پیرا ٹروپرز سٹینڈ بائی پر ہیں۔
