واشنگٹن، 25مارچ (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ کے سابق وزیر دفاع جیمز میٹس نے انتباہ جاری کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا اس وقت خاتمہ تہران کو عملی طور پر آبنائے ہرمز پر کنٹرول دے سکتا ہے جو کہ توانائی کی ترسیل کے لیے دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
میٹس کے یہ بیانات صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف فوجی حملوں میں پانچ روز کے عارضی وقفے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ فوجی کارروائیوں کا چوتھا ہفتہ جاری ہے۔
میٹس نے اس جانب اشارہ کیا کہ حملوں کے جواب میں ایرانی ردعمل نے اس گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریبا 20 فیصد گزرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے بین الاقوامی مارکیٹ کے توازن پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔
توانائی کی کانفرنس "سیرا ویک" میں شرکت کے دوران میٹس نے کہا کہ اگر ہم نے ابھی فتح کا اعلان کر دیا تو ایران کہے گا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا قبضہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اس بحری گزرگاہ سے گزرنے والے ہر جہاز پر فیس نافذ کر سکتا ہے۔
جیمز میٹس نے موجودہ صورتحال کو پیچیدہ اور مشکل قرار دیتے ہوئے واشنگٹن میں فیصلہ سازوں کے سامنے محدود اختیارات کی نشاندہی کی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ نے میٹس کے بیانات پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا جبکہ حملوں میں وقفے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور قیمت تقریبا 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے قیمتیں 120 سے 90 ڈالر کے درمیان رہی تھیں۔
میٹس کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی تصفیے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی کم ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی فضائی حملوں نے اگرچہ ایران کے اندر فوجی اہداف کو تباہ کیا ہے لیکن وہ امریکی اسٹریٹجک مفادات کو مستحکم کرنے میں کوئی حتمی پیش رفت حاصل نہیں کر سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دونوں فریقین میں سے کوئی بھی دوسرے کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف فضائی طاقت حکومتوں کو گرانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔
اسی تناظر میں تیل کے شعبے سے وابستہ حکام نے امریکی حکمت عملی کے ابہام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شعبے کے اندر بعض بات چیت میں اس خیال کی حمایت کی جا رہی تھی کہ آبنائے ہرمز میں مستقل فوجی موجودگی قائم کی جائے تاکہ جہاز رانی کی سکیورٹی یقینی بنائی جا سکے اور ایران کو تیل کے ٹینکروں کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔
تاہم توانائی کے شعبے کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کا مذاکرات کی طرف جھکاؤ کا اعلان اس سمت میں ایک اچانک تبدیلی ہے۔
دوسری طرف بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں فارن پالیسی پروگرام کی ڈائریکٹر سوزان مالونی نے اس امکان کو مسترد کر دیا ہے کہ حملوں کا وقفہ کسی مستقل امن کا باعث بنے گا، انہوں نے دونوں فریقین کے اہداف کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی مذاکرات میں ایران کے ممکنہ مطالبات میں نقصانات کا ازالہ اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ شامل ہو سکتا ہے، یہ وہ شرائط ہیں جنہیں واشنگٹن یا خلیج میں اس کے اتحادیوں کے نقطہ نظر سے ناقابل قبول تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پرامید نہیں ہیں۔
