تہران، 24 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی حکام کی جانب سے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ مذاکرات کے دعوے کے بعد ... قالیباف نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر آج پیر کے روز اپنے بیان میں واضح کیا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسی "جعلی خبریں" مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور امریکہ و اسرائیل کو درپیش موجودہ تعطل سے نکالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدے دار نے "روئٹرز" کو بتایا کہ واشنگٹن نے ہفتے کے روز قالیباف سے ملاقات کی درخواست کی تھی، جس کا تہران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع اور axios ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، ثالث ممالک اس ہفتے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں قالیباف اور دیگر ایرانی حکام کے علاوہ امریکہ کی جانب سے وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شریک ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے نمائندوں نے اتوار کی رات گئے تک مذاکرات کیے جو آج بھی جاری رہیں گے۔ تاہم انہوں نے کسی ایرانی عہدے دار کا نام لینے سے گریز کیا اور یہ واضح کیا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے انہیں توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی براہ راست یا بالواسطہ رابطے میں نہیں ہے اور کشیدگی کم کرنے کی تجاویز امریکہ کو دی جانی چاہئیں کیونکہ جنگ ایران نے شروع نہیں کی۔
یہ سفارتی گہما گہمی اس وقت پیدا ہوئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بجلی گھروں پر حملے کی دی گئی مہلت میں پانچ دن کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے پیر کی رات تک آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے بجلی کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا گیا تو وہ اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کی بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔
