تل ابیب، 23 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائے ادرعی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ رات کے اوقات میں فوجی انٹیلی جنس کی ہدایت پر ایرانی دارالحکومت تہران میں فوجی ٹھکانوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک لہر مکمل کر لی ہے۔ ادرعی نے کہا جنگی طیاروں نے ان مقامات پر درجنوں ہتھیار گرائے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایرانی نظام کی سکیورٹی ایجنسیوں کے زیرِ استعمال تھے اور وہاں جنگی ساز و سامان تیار اور ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
اویچائے ادرعی نے یہ بھی کہا کہ ان حملوں میں دیگر مقامات کے علاوہ ایرانی فوج کے ایک ایسے فوجی اڈہ کو بھی نشانہ بنایا گیا جو فوجیوں کی تربیت اور طیاروں کو نشانہ بنانے والے میزائل سسٹمز کے ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ ایرانی وزارت دفاع کے تحت جنگی ساز و سامان کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کا ایک مقام اور پاسداران انقلاب کی فضائیہ کا ایک اور جنگی ساز و سامان تیار کرنے والے مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان کے مطابق ان حملوں میں نشانہ بننے والے مقامات میں ایرانی وزارت انٹیلی جنس کا ایک ہیڈ کوارٹر اور داخلی سلامتی کی فورسز کا ایمرجنسی ہیڈ کوارٹر بھی شامل تھا۔ اسرائیلی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ یہ حملے ایرانی نظام کے بنیادی سسٹمز اور ستونوں کو لگنے والی ضرب کو گہرا کرنے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ اپنے چوتھے ہفتے اور ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ فیلڈ کی سطح پر شدید کشیدگی کے درمیان ہفتے کی رات ایران کی جانب سے کیے گئے دو میزائل حملوں نے عراد اور اس کے قریبی شہر دیمونا، جہاں اسرائیلی ایٹمی تنصیب واقع ہے، میں شدید نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق ان حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ جواب میں اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کردیے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے اتوار کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ایران اور اسرائیل میں ایٹمی مقامات پر حملوں کی وجہ سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے تمام فریقوں سے فوجی کشیدگی سے باز رہنے کی اپیل کی۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے ’’ ایکس ‘‘ پر کہا کہ ایٹمی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملے عوامی صحت اور ماحولیاتی سلامتی کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں تمام فریقوں سے فوری طور پر فوجی کشیدگی میں انتہائی تحمل برتنے اور ایسی کسی بھی کارروائی سے بچنے کی اپیل کرتا ہوں جو ایٹمی حادثات کا باعث بن سکے۔
