ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں مسٹر رندیپ سنگھ سورجے والا نے یو این آئی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کو میڈیا کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملک میں میڈیا کو مسلسل دبا رہی ہے۔
یو این آئی کیمپس میں جمعہ کی شام نیوز روم میں اپنے فرائض انجام دینے والے میڈیا اہلکاروں کے تئیں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے بدتمیزی اور زیادتی کے معاملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ صحافیوں کے لیے "دباؤ اور خوف کا ماحول" پیدا کیا جا رہا ہے۔
سخت الفاظ میں اپنی پوسٹ میں، مسٹر رندیپ سنگھ سورجے والا نے الزام لگایا کہ صحافیوں اور حکومت کی تنقید کرنے والی میڈیا تنظیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این آئی کا واقعہ کوئی شاذ واقعہ نہیں ہے بلکہ میڈیا کو دبانے کی کوششوں کا ''نمونہ'' ہے۔
انہوں نے اپنے دعووں کی تائید کے لیے متعدد واقعات کا تذکرہ کیا۔ ان میں 2016 میں این ڈی ٹی وی پر ایک دن کی پابندی، 2017 میں سی بی آئی کی کارروائی، اور اس کے بعد اڈانی گروپ کی جانب سے حصص کی خریداری کے معاملے شامل تھے۔
انہوں نے بی بی سی کی دستاویزی فلم کے بعد محکمہ انکم ٹیکس کی کارروائی جیسے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ صحافیوں کے خلاف مقدمات کی فہرست دیتے ہوئے مسٹر رندیپ سنگھ سورجے والا نے گوری لنکیش کے قتل، صدیق کپن کی گرفتاری، رعنا ایوب کے خلاف آن لائن دھمکیاں، محمد زبیر کی گرفتاری، اور صحافی ونود دوا کے خلاف درج بغاوت کا مقدمہ جیسی مثالوں کا بھی ذکر دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے پرشانت کنوجیا کی گرفتاری، کسانوں کے احتجاج کے دوران راجدیپ سردیسائی کے خلاف ایف آئی آر، اور جھارکھنڈ کے صحافی روپیش کمار سنگھ کی گرفتاری جیسے واقعات تشویشناک ہیں۔
ایک بین الاقوامی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، مسٹر سرجے والا نے کہا کہ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ذریعہ جاری کردہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 میں ہندوستان 180 ممالک میں 151 ویں نمبر پر ہے، جس سے میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے۔
