مسٹر گتیریس نے یہاں یورپی کونسل کے اجلاس کے دوران صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کیا گیا تنازعہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جانے کا خطرہ ہے اور اس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر گتیریس نے یہ بھی کہا کہ جنگ کا اثر میدان جنگ سے بہت آگے تک پھیلا ہوا ہے۔ انہوں نے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے خبردار کیا، خاص طور پر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے اس کے ممکنہ المناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سفارتکاری کو جنگ پر ترجیح دی جائے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک نے جمعرات کے روز برسلز میں ملاقات کی جس میں مغربی ایشیا کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص یورپی توانائی کی قیمتوں، توانائی کی سلامتی اور علاقائی استحکام پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس سے عالمی جہاز رانی میں خلل پڑا، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ، اور عالمی معیشت مفلوج ہوگئی ہے۔
جمعرات کے روز ابتدائی تجارت میں یورپی گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یورپی گیس سپلائی کنٹریکٹس کے لیے اہم حوالہ انڈیکس ڈچ ٹی ٹی ایف میں شروعاتی طور پر 30 فیصد سے زیادہ اضافہ کے ساتھ 70.7 یورو (تقریباً 76.8 امریکی ڈالر) فی میگا واٹ گھنٹے درج کیا گیا لیکن بعد میں گراوٹ کے ساتھ تقریباً 67 یورو فی میگا واٹ گھنٹے پر آ گیا۔ یہ قیمت جو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے تقریباً 32 یورو فی میگاواٹ فی گھنٹہ تھی، اب دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی بینچ مارک، برینٹ کروڈ، ابتدائی ٹریڈنگ میں 116 ڈالر فی بیرل سے بڑھ گیا۔
