انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس نے ریاستوں پر ایم ایس پی بونس ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جسے بغیر کسی منطق کے 'قومی ترجیحات' کے نام پر درست ٹھہرایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی ایک اور سنگین سوال ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں 'غیر ٹیرف رکاوٹیں' کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ کیا اس کا مطلب ایم ایس پی اور سرکاری خریداری کو کمزور کرنا ہے؟ حکومت اس سوال سے بھی بچ رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کسانوں سے کیا گیا وعدہ تو نبھانا نہیں چاہتی، اپنے مفاد کے لیے وہ ہندوستانی زراعت کو قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کے حقوق اور ایم ایس پی کے تحفظ کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر آواز اٹھاتے رہیں گے۔
