قابل ذکر ہے کہ سونم وانگچُک کو گزشتہ سال 24 ستمبر کو لیہہ میں قانونی نظم و نسق کی سنگین صورتحال پیدا ہونے کے بعد 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں جودھپور (راجستھان) کی جیل بھیج دیا گیا تھا۔ سونم وانگچُک اس قانون کے تحت حراست کی مدت کا تقریباً آدھا وقت گزار چکے ہیں۔ این ایس اے ایکٹ کے تحت زیادہ سے زیادہ مدت جس کے لیے کسی شخص کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے 12 ماہ ہے۔ حکومت اگر چاہے تو اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے کسی بھی وقت کسی شخص کو رہا کر سکتی ہے۔
وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق حکومت لداخ کے لوگوں کی امیدوں اور خدشات کو دور کرنے کے لیے مختلف فریقوں اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے۔وزارت نے امید ظاہر کی ہے کہ علاقے سے متعلق مسائل کو 'اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی' اور دیگر مناسب فورموں کے ذریعے تعمیری بات چیت سے حل کیا جائے گا۔ حکومت نے لداخ کی سلامتی اور ترقی کے تئیں اپنی وابستگی بھی دہرائی ہے۔ اس سے قبل سونم وانگچُک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہلوایا تھا کہ حراست میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنی سرگرمیوں سے دوری اختیار نہیں کی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھوایا تھا کہ لداخ کی سلامتی، وقار اور مستقبل کے لیے ان کی جدوجہد، اتحاد اور ایمانداری کے ساتھ جاری رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ان کی حراست کو 'غیر قانونی اور من مانا' قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت ابھی جاری ہے۔
