واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کی رات ایران کے صدر کے ساتھ مغربی ایشیا کی صورتحال اور خدشات کے بارے میں بات کی تھی۔ وزیر اعظم نے بات چیت کے دوران ایران سمیت اس خطے میں ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ہندوستان کی ترجیح پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے توانائی اور سامان کی بلا تعطل نقل و حمل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے بھی اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مختلف دو طرفہ امور پر بات چیت کی تھی۔
ایرانی سفیر نے دہرایا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ مسٹر فتح علی نے یہاں کہا کہ "ہم کئی بار اعلان کر چکے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے، لیکن ان مذاکرات کو میز پر ہی روک دیا گیا اور تباہ کر دیا گیا۔ اب ہم تمام حکومتوں سے کہتے ہیں کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ایران اس کے لیے تیار ہے۔"
مسٹر فتح علی نے ایران اور پورے خطے کی صورتحال پر بھی بات کی اور حالیہ ہفتوں میں ہوئے تشدد کا تذکرہ کیا، جس میں اسکولوں پر حملے اور اہم سیاسی، فوجی اور دفاعی شخصیات کی شہادتیں شامل ہیں۔ انہوں نے ان واقعات کو "انتہائی پیچیدہ اور انتہائی تشویشناک" قرار دیا اور غزہ میں شہریوں پر ہوئے حملوں کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ "یہ معصوم بچے طالب علم تھے، جو بہتر مستقبل کی امید میں پڑھنے آئے تھے، لیکن وہ قابض صیہونی حکومت اور امریکہ کے تشدد اور بربریت کا شکار ہو گئے۔"
سفیر نے سفارت کاری کے لیے ایران کی ترجیح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کسی بھی فوجی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور عالمی برادری سے تہران کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی اپیل کی۔
بین الاقوامی یوم القدس کانفرنس میں فتح علی نے کہا کہ "میں ہندوستان کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمارے لیڈر کی شہادت پر جس طرح تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ میں آپ سب کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ سے ملنے والے ایسے پیغامات اور جذبات ہندوستان اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے موجود تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں، یہاں کے لوگوں کے جذبات سے اس گہرے رشتے کا حقیقی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔"
