اطلاعات کے مطابق ایران نے مغربی ایشیا کے اُن ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس کے اثرات ایشیا کے دیگر شیئر بازاروں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی شیئر بازار پر بھی پڑے اور بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی۔ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت میں 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 51 پیسے کمزور ہو گیا۔
بی ایس ای کا حساس اشاریہ سینسیکس 1,862.15 پوائنٹس کم ہو کر 77,056.75 پوائنٹس پر کھلا۔ خبر لکھے جانے کے وقت یہ 2,241.23 پوائنٹس (2.84 فیصد) کی گراوٹ کے ساتھ 76,677.67 پوائنٹس پر تھا۔ کاروبار کے دوران ایک وقت یہ 2,496 پوائنٹس تک نیچے چلا گیا تھا۔
اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50 اشاریہ بھی 582.40 پوائنٹس کم ہو کر 23,868.05 پوائنٹس پر کھلا۔ خبر لکھے جانے کے وقت یہ 682.65 پوائنٹس یعنی 2.79 فیصد کی کمی کے ساتھ 23,767.80 پوائنٹس پر تھا۔
خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث عالمی بازار میں آج برینٹ کروڈ کی قیمت 20 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس کروڈ کی قیمت 22 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل کے پار پہنچ گئی۔ اس دوران روپیہ 51 پیسے کی کمی کے ساتھ 92.33 روپے فی ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
ملکی شیئر بازاروں میں تقریباً تمام سیکٹروں پر دباؤ ہے۔ بینکنگ، مالیاتی خدمات، آٹو، میڈیا، دھات اور کیمیکل سیکٹر کے اشاریے چار فیصد سے زیادہ کم ہو گئے ہیں۔
سینسیکس کی تمام کمپنیاں خسارے میں رہیں۔ سب سے زیادہ گراوٹ والی کمپنیوں میں بالترتیب انڈیگو، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ٹاٹا اسٹیل، ایشین پینٹس، ماروتی سوزوکی، لارسن اینڈ ٹوبرو، ایکسس بینک، ایٹرنل، مہندرا اینڈ مہندرا اور آئی سی آئی سی آئی بینک شامل ہیں۔
