Masarrat
Masarrat Urdu

آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے رہبر اعلیٰ منتخب

Thumb

تہران/نئی دہلی، 9 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لیں گے، جو 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی (ایم این اے) نے اطلاع دی ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس خبرگان نے پیر کی صبح آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی انقلاب کا تیسرا رہبر اعلیٰ قرار دیا ہے۔‘‘

مجلس خبرگان نے ایک بیان میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ’شہادت‘ کے فوراً بعد، جنگی صورتحال، دشمن کی دھمکیوں اور اسمبلی کے دفاتر پر بمباری کے باوجود، انہوں نے نیا لیڈر منتخب کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اپنے آئینی اور اندرونی فرائض کے مطابق، کونسل نے تیزی سے ایک غیر معمولی اجلاس طلب کرنے اور جانشین مقرر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔

8 ستمبر 1969 کو مشہد میں پیدا ہوئے سید مجتبیٰ علی خامنہ ای، سید علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔ 88 رکنی مجلس خبرگان(اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے سے کچھ زیادہ وقت گزرنے کے بعد انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈرمنتخب کیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد، تین رکنی عبوری قیادت کونسل نے نیا لیڈر منتخب ہونے تک ملک کی قیادت سنبھالی۔ اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژئی شامل تھے۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی فوج، حکام اور عوام نے اپنے نئے رہبر اعلیٰ کے تئیں اپنی وفاداری کا حلف اٹھایا ہے۔ پیر کی صبح جاری ہونے والے بیانات میں ایرانی حکام اور تنظیموں نے نو منتخب لیڈر کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف سید مجتبیٰ خامنہ ای کے تئیں وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں تصدیق کی کہ وہ دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ڈٹے رہیں گے اور ملک کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

56 سالہ شیعہ عالم دین سید مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی اقتدار کے ایوانوں میں سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہیں طاقتور’سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ‘ (آئی آر جی سی) کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی اسمبلی آف ایکسپرٹس نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نو منتخب لیڈر کی حمایت کریں اور ’اتحاد برقرار رکھیں‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وارننگ دی تھی کہ خامنہ ای کا بیٹا انہیں ’ناقابلِ قبول‘ ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر تقرری ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوئی تو ایران کا نیا لیڈر ’زیادہ وقت تک نہیں ٹک سکے گا‘۔

 

Ads