وزیر خارجہ کی یہ بریفنگ اس تنازع کے بعد سامنے آئی ہے جو 28 فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کی حکمراں قیادت کے کئی ارکان کے ساتھ جاں بحق ہو گئے، جس سے پورے مغربی ایشیا میں کشیدگی شدید تر ہو گئی۔
اس کے بعد کے دنوں میں عداوت میں شدت آئی ہے، اوراختتام ہفتہ تیل کے ڈپو اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس کو نشانہ بنانے والے تازہ حملوں کی اطلاعات نے ایک وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
جے شنکر نے کہا کہ حکومت نے خطے میں عدم استحکام کے امکان کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا اورصبروتحمل پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری حکومت نے 20 فروری کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا اور تمام فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی تھی۔ ہمارا اب بھی یہی ماننا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔‘‘
ہندوستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ نئی دہلی نے 28 فروری کوجنگ شروع ہونے کے بعد باضابطہ طور پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا، خاص طور پر بڑھتے ہوئے جانی نقصان اور ایرانی قیادت کے ڈھانچے کے بکھر جانے کے پیش نظر۔
جے شنکر نے قانون سازوں کو یہ بھی مطلع کیا کہ مودی کی زیر صدارت کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی بدلتی ہوئی صورتحال اورہندوستان پر اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پینل وسیع تر علاقائی نتائج کے ساتھ ساتھ متاثرہ ممالک میں رہنے والے یا سفر کرنے والے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کمیٹی علاقائی تنازع اور خطے میں موجود ہندوستانیوں اورہندوستانی مسافروں کو درپیش مشکلات کے بارے میں فکر مند ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تمام وزارتوں کو ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق، خطے میں جغرافیائی سیاسی ماحول نمایاں طور پر خراب ہوا ہے، کیونکہ یہ تنازع اب دیگر ممالک تک پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس سے عالمی سلامتی اور اقتصادی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باوجود، جے شنکر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی رابطوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تمام فریقین کے لیے کشیدگی کم کرنے کا راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی ہے۔‘‘
تاہم، اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے رہے اورضابطہ 176 کے تحت تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا، تاکہ ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اور خطے میں موجود ہندوستانی تارکینِ وطن کی سلامتی پر اس تنازع کے اثرات پر بحث کی جا سکے۔
