امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ لاریجانی کس بارے میں بات کر رہے ہیں اور وہ اس طرح کے بیانات کو اہمیت نہیں دیتے۔ ان کے بقول ایران پہلے ہی جنگ ہار چکا ہے۔
یاد رہے کہ علی لاریجانی نے ہفتہ کے روز کہا تھا کہ ایران پر حملوں کی ٹرمپ کو سزا ملے گی اور انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
علی لاریجانی ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل ہیں جس کے ارکان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اعلیٰ فوجی کمانڈر اور انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔
جنگ کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کی قیادت کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیانات کا تبادلہ جاری ہے جس کے باعث سفارتی حل کے امکانات بھی کمزور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ایران اپنے رہنما اور شہریوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آخری حد تک جائے گا اور ٹرمپ کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی سیاسی منظرنامے میں نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ خامنہ ای جنگ کے ابتدائی دن امریکی اور اسرائیلی حملے میں اپنے اہل خانہ سمیت مارے گئے تھے۔
ٹرمپ نے اس بیان کے جواب میں کہا کہ ایران کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔
دریں اثنا امریکی صدر نے یہ امکان بھی رد نہیں کیا کہ امریکی زمینی افواج ایران میں داخل ہو سکتی ہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو زمینی فوج بھی بھیجی جا سکتی ہے اور ایسی صورت میں ایران امریکی افواج کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
