35 سالہ سوریا کمار، جو اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی جانب سے دوسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے کھلاڑی ہیں، نے کہا: "بطور کپتان دباؤ تو ہوگا، میں اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ ورلڈ کپ فائنل اور وہ بھی ہندوستان میں کھیلنے کا ایک الگ ہی جوش اور دباؤ ہوتا ہے۔ لیکن ٹیم کا ماحول بہت آرام دہ ہے اور ہر کوئی فائنل کے لیے پرجوش ہے۔"
نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر کے "دل توڑنے" والے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سوریا کمار نے مزاحیہ انداز میں کہا:"سب ہی ایک جیسی لائن بتا رہے ہیں، کچھ تو نیا بولو۔" (سب ایک ہی بات دہرا رہے ہیں، کچھ نیا کہیے)۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے حال ہی میں نیوزی لینڈ کو دو طرفہ سیریز میں 1-4 سے شکست دی ہے، اس لیے وہ ان کی طاقت اور کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
گزشتہ میچ میں مہنگی گیند بازی کرنے والے ورون چکرورتی کا دفاع کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ وہ دنیا کے نمبر ون بولر ہیں اور ٹیم کو ان پر پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کا ہر دن اچھا نہیں ہوتا، لیکن ورون جانتے ہیں کہ کس وقت کیا کرنا ہے اور وہ فائنل میں واپسی کریں گے۔
سوریا کمار نے روہت شرما کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کے تجربے کو بھی ٹیم کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں کے سوال پر انہوں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا علم کل ہی ہوگا۔
میچ جلدی شروع کرنے کے سوال پر سوریا نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ جب وہ آئی سی سی میں کسی بڑے عہدے پر ہوں گے تب بتائیں گے کہ فائنل 3 بجے شروع ہونا چاہیے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی پی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو اوس جیسی موسمی صورتحال کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
