ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران، جو ان کے بقول ’’بری طرح پٹ رہا ہے‘‘، نے مشرقِ وسطیٰ کے پڑوسی ممالک سے معافی مانگی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ان پر حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے یہ وعدہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے کیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کرکے اس پر حکمرانی کرنا چاہتا تھا، لیکن ان کے مطابق ہزاروں سال کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ ایران کو اپنے اردگرد کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
“انہوں نے کہا: ‘شکریہ صدر ٹرمپ’، اور میں نے جواب دیا: ‘آپ کا خیرمقدم ہے!’”
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب “مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ” نہیں رہا بلکہ اب وہ “مشرقِ وسطیٰ کا ہارنے والا” بن چکا ہے اور آئندہ کئی دہائیوں تک ایسا ہی رہے گا، جب تک کہ وہ ہتھیار نہ ڈال دے یا ممکنہ طور پر مکمل طور پر منہدم نہ ہو جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو “آج بہت سخت ضرب” لگ سکتی ہے۔ ان کے مطابق وہ علاقے اور گروہ جنہیں اب تک ہدف بنانے پر غور نہیں کیا گیا تھا، ایران کے ’’برے رویے‘‘ کی وجہ سے اب تباہی اور یقینی موت کے لیے زیرِ غور ہیں۔
ٹرمپ یہ تبصرہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس بیان کے بعد کر رہے تھے جس میں انہوں نے خلیجی ممالک سے معذرت کی تھی۔ ہفتہ کی صبح اپنے خطاب میں پزیشکیان نے کہا کہ تہران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کر دے گا جب تک کہ ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔
صدر پزیشکیان نے کہا کہ عبوری قیادت کونسل نے ایسی پالیسی کی منظوری دی ہے جس کے تحت پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کیا جائے گا جب تک کوئی اشتعال انگیزی نہ ہو۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں کیے گئے حملوں پر معافی بھی مانگی۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا “میں ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت چاہتا ہوں جن پر ایران نے حملے کیے۔ ہمارا مقصد اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ کرنا نہیں ہے۔ جیسا کہ میں بار بار کہہ چکا ہوں، وہ ہمارے بھائی ہیں۔”
