انہوں نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکہ اور اسرائیل کو اس تنازع کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایران کی تزویراتی اور جغرافیائی حیثیت سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کو 'صہیونی حکومت' قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد پورے مغربی ایشیا کے خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 'انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کہاں ہے اور اس کی حیثیت کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے صہیونی حکومت پورے خطے کو تباہ اور بے امن کرنا چاہتی ہے۔ ایران اپنے پڑوسیوں پر حملہ نہیں کرتا، لیکن وہ اپنے ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے پڑوسی ممالک کو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ ہم امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ہندوستان کے ساتھ کسی قسم کی سفارتی بات چیت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر فی الحال ایران اور ہندوستان کے درمیان کوئی گفتگو یا پیغام کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش پر مسٹر فتح علی نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن امریکہ اور اسرائیل نے پہلے حملہ کیا ہے اور ایران اس کا جواب دے گا۔
اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے ایک 'عظیم رہنما اور رہبر' کو کھو دیا ہے، جو ہمیشہ صحیح موقف پر قائم رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی آئیریس ڈینا پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
انہوں نے ایکس پر کہا کہ 'یہ جہاز 'ہندوستانی بحریہ کا مہمان' تھا اور ایران واپس جاتے وقت بحرِ ہند میں اس پر بغیر کسی وارننگ کے حملہ کیا گیا۔ اس وقت جہاز پر 130 ملاح سوار تھے۔ مسٹر عراقچی نے امریکہ کی کارروائی کو 'سمندر میں کیا گیا سنگین ظلم' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان واقعات کے بعد ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس سے مغربی ایشیا کے استحکام اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں کی سلامتی کے بارے میں نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
