Masarrat
Masarrat Urdu

سپاہ پاسداران انقلاب کا اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

  • 01 Mar 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، یکم مارچ (مسرت ڈاٹ کام) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی کل پیداوار کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے اور اسے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ وارننگ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اسی لمحے سے بند کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز، امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ اس لیے اسے ہفتے کے روز جہاز رانی کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی ’’ تسنیم ‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے کئی بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوجی جارحیت اور ایران کے جواب کے باعث آبنائے کے گرد غیر محفوظ ماحول کی وجہ سے اس وقت وہاں سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ایجنسی نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کی آمد و رفت رک گئی ہے اور یہ عملاً بند ہو چکی ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ نقل و حمل نے تجارتی بحری جہازوں کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی بمباری کے بعد خلیج سے گزرنے سے گریز کرنے کی سفارش کی ہے۔ محکمہ کے میری ٹائم افیئرز ایڈمنسٹریشن نے ایک بیان میں متنبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور بحرِ عرب کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی سرگرمیاں جاری ہیں اور سفارش کی جاتی ہے کہ بحری جہاز اگر ممکن ہو تو اس علاقے سے دور رہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم والے، امریکی ملکیت والے یا امریکی عملے کے ذریعے چلائے جانے والے بحری جہازوں کو کسی بھی امریکی فوجی جہاز سے 30 بحری میل کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے تاکہ غلطی سے انہیں خطرہ نہ سمجھ لیا جائے۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ فوجی تصادم ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے پر مجبور کر سکتا ہے جو خلیج عرب کو بحرِ عرب سے ملانے والی ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے اور دنیا کا تقریباً ایک تہائی سمندری خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

 

Ads