ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق شمالی تہران کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سپریم لیڈر کے رہائشی کمپلیکس اور دفاتر کے قریب مقامات شامل ہیں۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ شیمیران میں صدارتی محل کے قریب اور سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کے آس پاس متعدد میزائل گرے۔
اس کشیدگی سے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال میں بڑی تبدیلی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مہم ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو "واپس لینے" کا "سب سے بڑا موقع" ہے، جبکہ ایران نے بڑے حملے کی دھمکی دی ہے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق دارالحکومت پر حملوں کے دوران خامنہ ای اپنے دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران مارے گئے۔ بعد ازاں سرکاری ٹیلی وژن نے بھی ان کی موت کی تصدیق کی۔
ایرانی قیادت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب سرکاری میڈیا نے اتوار کو اطلاع دی کہ خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتی بھی حملوں میں ہلاک ہو گئے۔ فارس نے کہا کہ "سپریم لیڈر کے گھر کے باخبر ذرائع سے رابطے کے بعد، ان کی بیٹی، داماد اور پوتی کی شہادت کی خبر کی افسوسناک طور پر تصدیق ہو گئی ہے۔" تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی تین بیٹیوں میں سے کون اس واقعے میں شامل ہے۔
