Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کے ساتھ مذاکرات سے مطمئن نہیں ہوں: امریکی صدر

  • 28 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 28 فروری (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو 20 فیصد تک بھی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جنیوا میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے ایک روز بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران سویلین مقاصد کے لیے بھی کسی قسم کی یورینیم افزودگی کرے۔

انہوں نے ریاست ٹیکساس کے ساحلی شہر کارپس کرسٹی میں ایک تقریب سے قبل مزید کہا کہ ایران اپنی دولت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے لیکن اسے تیل کی اتنی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے تہران پر الزام عائد کیا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ سنجیدگی دکھانے کا خواہش مند نہیں ہے اور ان کے بقول یہ انتہائی افسوسناک امر ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر اپنے عدم اطمینان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ کوئی افزودگی نہیں ہوگی۔ نہ 20 فیصد اور نہ ہی 30 فیصد۔ وہ ہمیشہ 20 یا 30 فیصد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سویلین مقاصد کے لیے ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ یہ سویلین مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے بارہا دہرایا کہ وہ مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔

تاہم اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ وہ پرامن طریقے سے معاملات چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک اہم فیصلہ کیا جانا باقی ہے جو کہ آسان نہیں ہے۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلطنت عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم اپنے پاس نہ رکھنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی حل کا کوئی متبادل نہیں ہے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان معاہدہ ممکن ہے۔

گذشتہ روز مذاکرات کے دوران 5 مطالبات پیش کیے گئے تھے جن میں تین جوہری مقامات فردو، نطنز اور اصفہان کی تباہی کے ساتھ ساتھ افزودہ یورینیم کی تمام مقدار امریکہ کے حوالے کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ اس بات کی تاکید بھی کی گئی کہ یہ پابندیاں مستقل ہوں گی اور سنہ 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے کے برعکس ان کی کوئی وقت کی حد نہیں ہوگی۔

مطالبات میں افزودگی کو مکمل طور پر روکنا بھی شامل ہے جبکہ تہران ری ایکٹر کو برقرار رکھنے کی اجازت اور خیر سگالی کے طور پر آغاز میں پابندیوں میں محدود کمی کی پیش کش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اگر ایران امریکی شرائط پر عمل کرتا ہے تو پابندیوں میں مزید نرمی کی جائے گی۔

تاہم دونوں فریقین کے درمیان تین بڑے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ پہلا یہ کہ کتنی فیصد افزودگی کی اجازت دی جائے گی، دوسرا 400 کلوگرام کے لگ بھگ موجود اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل کیا ہوگا اور تیسرا یہ کہ امریکی حکام ایران کی جوہری سرگرمیوں کی سخت نگرانی کے لیے ایک موثر طریقہ کار وضع کرنے پر بضد ہیں۔

دوسری جانب تہران نے اپنے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حوالے سے لچک دکھائی ہے اور آدھی مقدار ملک سے باہر بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے بشرطیکہ بقیہ آدھی مقدار جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں رہے۔

ایرانی وفد نے ملک کے اندر افزودگی کی شرح کم کرنے پر بھی لچک کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی پرامن مقاصد کے لیے افزودگی کے اپنے حق پر قائم رہنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

 

Ads