وزیر اعظم مودی نے غزہ امن اقدام کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں امن کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ اسرائیل کے دو روزہ دورے پر گئے ہوئے مسٹر مودی نے بدھ کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ 'نیسیٹ' سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ارکانِ پارلیمنٹ نے تالیاں بجا کر اور 'مودی مودی' کے نعروں سے ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کے خطاب کے بعد نیسیٹ کے اسپیکر نے مسٹر مودی کو نیسیٹ کے اعلیٰ ترین اعزاز 'اسپیکر آف دی نیسیٹ میڈل' سے نوازا۔
اس تقریب میں وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، خارجہ سکریٹری وکرم مصری اور اسرائیل میں ہندوستان کے سفیر جتیندر پال سنگھ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر نیسیٹ کو ہندوستانی رنگوں سے سجایا گیا تھا۔ مسٹر مودی نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کو دو ہزار سال سے زیادہ پرانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اسرائیل کے ساتھ ایک ذاتی اتفاق بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، "میری پیدائش 17 ستمبر 1950 کو اسی دن ہوئی تھی جس دن ہندوستان نے رسمی طور پر اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔"
انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "میں ہندوستان کے عوام کی طرف سے اس ہر جان کے لیے گہری تعزیت کا اظہار کرتا ہوں جو 7 اکتوبر کو حماس کے اس ہولناک دہشت گردانہ حملے میں ضائع ہوئی اور ان تمام کنبوں کے لیے جن کی دنیا تباہ ہو گئی۔ ہم آپ کا درد محسوس کرتے ہیں اور آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ہندوستان اس وقت اور آئندہ بھی، پوری مضبوطی اور پختہ یقین کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔"
انہوں نے زور دے کر کہا، "کوئی بھی مقصد شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتا۔ کوئی بھی چیز دہشت گردی کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔"ہندوستان کے اپنے تجربات کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کو یاد کیا، جس میں اسرائیلی شہریوں سمیت بے گناہ شہریوں کی جانیں گئی تھیں۔ انہوں نے کہا، "آپ کی طرح، ہماری بھی دہشت گردی کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے کی مستقل پالیسی ہے، جس میں کوئی دوہرا معیار نہیں ہے۔" "دہشت گردی کا مقصد معاشروں کو غیر مستحکم کرنا، ترقی کو روکنا اور اعتماد کو مجروح کرنا ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل اور مربوط عالمی کارروائی کی ضرورت ہے، کیونکہ کہیں بھی ہونے والی دہشت گردی ہر جگہ کے امن کے لیے خطرہ ہے۔"
اسرائیل کے لیےہندوستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے امن کے لیے سفارتی راستوں کی نئی دہلی کی حمایت پر بھی زور دیا۔ ابراہیمی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ان معاہدوں کے پیچھے موجود "حوصلے اور بصیرت" کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی توثیق شدہ غزہ امن پہل "فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے سمیت خطے کے تمام لوگوں کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار امن" کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دونوں عوام کے درمیان گہرے تاریخی روابط کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات دو ہزار سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ انہوں نے تذکرہ کیا، "کتابِ ایستھر میں ہندوستان کا حوالہ 'ہوڈو' کے طور پر ملتا ہے۔ تلمود میں قدیم زمانے میں ہندوستان کے ساتھ تجارت کا ریکارڈ موجود ہے۔"
"یہودی تاجروں نے ان سمندری راستوں سے سفر کیا جو بحیرۂ روم کو بحر ہند سے جوڑتے تھے۔ وہ مواقع اور وقار کی تلاش میں آئے تھے اورہندوستان میں وہ ہم میں سے ایک بن گئے۔" انہوں نے مزید کہا، "یہودی برادریاں ہندوستان میں ظلم و ستم یا امتیازی سلوک کے خوف کے بغیر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے عقیدے کو محفوظ رکھا اور معاشرے میں بھرپور حصہ لیا۔ یہ ریکارڈ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔"
انہوں نے ہندوستان میں مختلف یہودی برادریوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن میں مہاراشٹر کے 'بنی اسرائیل'، کیرالہ کے 'کوچی یہودی'، کولکاتہ اور ممبئی کے 'بغدادی یہودی' اور شمال مشرق کے 'بنی منشے' شامل ہیں۔
جن نمایاں شخصیات کا انہوں نے تذکرہ کیا ان میں لیفٹیننٹ جنرل جے ایف آر جیکب شامل تھے، جنہیں 1971 کی ہند پاک جنگ میں ان کے کردار کے لیے یاد کیا جاتا ہے؛ ڈیوڈ ابراہام چیولکر، جو پیار سے "انکل ڈیوڈ" کے نام سے مشہور تھے؛ اور مخیر شخصیت ڈیوڈ ساسون، جن کے ادارے آج بھی ہندوستانی معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے پہلی جنگ عظیم کے دوران کی مشترکہ فوجی تاریخ کو بھی یاد کیا، جب اس خطے میں 4,000 سے زائد ہندوستانی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے 1918 کی 'حیفہ کی لڑائی' اور میجر ٹھاکر دلپت سنگھ کا حوالہ دیا، جنہیں "حیفہ کا ہیرو" کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
ہولوکاسٹ کی یاد کے عالمی دن کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے ہولوکاسٹ کو "انسانیت کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک" قرار دیا۔ انہوں نے ریاست نوانگر کے مہاراجہ، جنہیں گجرات کے 'جام صاحب' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی مثال پیش کی جنہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودی بچوں سمیت پولش بچوں کو پناہ دی تھی۔ انہوں نے کہا، "ان پُراشوب برسوں میں بھی، انسانیت کے کچھ اقدامات نمایاں رہے،" اور حال ہی میں اسرائیل میں ان کے اعزاز میں ایک مجسمے کی نقاب کشائی پر اظہارِ تشکر کیا۔
وزیر اعظم مودی نے تجارت، دفاع، جدت طرازیاور زراعت کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے وژن کا خاکہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا، "گزشتہ چند برسوں سےہندوستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت رہا ہے۔ جلد ہی ہم عالمی سطح پر تین بڑی معیشتوں میں شامل ہوں گے۔ ساتھ ہی، اسرائیل جدت طرازی اور تکنیکی قیادت کا پاور ہاؤس ہے۔ یہ صورتحال ایک مستقبل پسند شراکت داری کے لیے فطری بنیاد فراہم کرتی ہے۔"
انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی اشیاء کی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یہ ابھی تک اپنی اصل صلاحیت سے کم ہے۔ غیر استعمال شدہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک آزاد تجارتی معاہدکے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
وزیر اعظم نے کثیر جہتی اور علاقائی فریم ورکس میں تعاون پر بھی روشنی ڈالی، جیسے کہ 'ہند-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری' (آئی ایم ای سی) اور آئی2 یو 2 گروپ (جس میں ہندوستان، اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ شامل ہیں)۔
انہوں نے کہا کہ دفاع اور سکیورٹی تعلقات کا ایک اہم ستون رہے ہیں اور گزشتہ نومبر میں دفاعی تعاون پر دستخط شدہ مفاہمت نامے کی طرف اشارہ کیا۔
اسرائیل کو "اسٹارٹ اپ نیشن" قرار دیتے ہوئے، وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کا اپنا اختراعی ماحولیاتی نظام قدرتی طور پر کوانٹم ٹیکنالوجیز، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) میں اسرائیل کی مہارتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے 2018 میں وزیر اعظم نتن یاہو کے ساتھ 'iCreate ٹیکنالوجی بزنس انکیوبیٹر' کے افتتاح کو یاد کیا، جو اب تک سینکڑوں اسٹارٹ اپس کی مدد کر چکا ہے۔
زراعت کے موضوع پر، انہوں نے 'پریسجن اریگیشن'اور پانی کے بندوبست میں اسرائیل کی مہارت کی تعریف کی اور کہا کہ پورےہندوستان میں 43 'سینٹرز آف ایکسی لینس' قائم کیے گئے ہیں، جن سے پانچ لاکھ سے زائد کسان مستفید ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان مراکز کی تعداد بڑھا کر 100 کرنے کی تجویز پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ اس رشتے کے مرکز میں عوامی سطح پر مضبوط روابط ہیں۔ انہوں نے مزید اسرائیلی نوجوانوں کو ہندوستان آنے کی دعوت دی اور اعلان کیا کہ ہندوستانی پارلیمنٹ نے اسرائیل کے لیے ایک 'پارلیمانی فرینڈشپ گروپ' قائم کیا ہے، تاکہ قانون سازوں کے درمیان گہرے تبادلوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
انہوں نے اسرائیل میں دیکھ بھال کرنے والے موجودہندوستانی کارکنوں اور ہنرمند مزدوروں کی "غیر معمولی ہمت اور لگن" کی بھی تعریف کی، خاص طور پر بحران کے اوقات میں ان کی خدمات کو سراہا۔ ایک فلسفیانہ اختتام میں، وزیر اعظم مودی نے یہودی اورہندوستانی روایات کے درمیان مماثلتیں بیان کیں۔ انہوں نے کہا، "اسرائیل میں 'تکون اولم' کا اصول دنیا کی اصلاح اور اسے بہتر بنانے کی بات کرتا ہے۔ ہندوستان میں 'وسودھیو کٹمبکم' اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پوری دنیا ایک خاندان ہے۔ دونوں نظریات ذمہ داری کو فوری سرحدوں سے آگے تک پھیلاتے ہیں۔ وہ معاشروں سے ہمدردی اور اخلاقی جرات کے ساتھ کام کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔"
انہوں نے ہنوکا اور دیوالی اور پوریم اور ہولی کے درمیان مماثلتوں کا ذکر کیا، جو روشنی، خوشی اور ثابت قدمی کے تہواروں کے طور پر منائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ہمارے مشترکہ نظریات وہ گہری بنیادیں ہیں جو ہماری جدید شراکت داری کو طاقت فراہم کرتی ہیں۔ ہم وہ جمہوریتیں ہیں جنہیں تاریخ نے سنوارا ہے اور جن کی توجہ مستقبل پر مرکوز ہے۔ ہماری شراکت داری نہ صرف قومی مفادات کی تکمیل کرتی ہے بلکہ عالمی استحکام اور خوشحالی میں بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے۔"
اپنے خطاب کا اختتام "عام اسرائیل کھائی" اور "جے ہند" کے الفاظ سے کرتے ہوئے، وزیر اعظم مودی کو ارکانِ پارلیمنٹ نے کھڑے ہو کر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا، جسے مبصرین نے ہندوستان اور اسرائیل کے بدلتے ہوئے تعلقات میں ایک تاریخی اور مستقبل پسند لمحہ قرار دیا۔
