Masarrat
Masarrat Urdu

کانگریس نے مودی کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھایا

Thumb

نئی دہلی، 25 فروری (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی کے لیے پوری دنیا اسرائیل کی تنقید کر رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جا سکتا۔

کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کو مسٹر مودی کے دورہ اسرائیل پر سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ہندوستان کا نظریہ ہمیشہ متاثرین اور بے گناہوں کے دکھوں کے تئیں حساس رہا ہے، اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ مسٹر مودی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سامنے بھی اپنے روایتی ہندوستانی نقطہ نظر کو رکھیں گے۔

محترمہ واڈرا نے کہا، "مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم اسرائیل کے اپنے دورہ کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں ہزاروں بے گناہ مرد و خواتین اوربچوں کے قتل عام کا ذکر کریں گے اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ ہندوستان ایک آزاد قوم کے طور پر اپنی پوری تاریخ میں سچائی کے لیے کھڑا رہا ہے، ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے۔"

وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے لکھا، "فلسطین کے تئیں ہندوستان کا ایک تاریخی اور اخلاقی نظریہ رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔"

فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 20 مئی 1960 کو غزہ کا دورہ کیا اور وہاں اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس میں تعینات ہندوستانی دستے سے ملاقات کی۔ پھر 29 نومبر 1981 کو ہندوستان نے فلسطین کی حمایت میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جب کہ 18 نومبر 1988 کو ہندوستان نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔

مسٹر رمیش نے کہا، ’’وہ ایک مختلف دور تھا۔ اب ایسے وقت میں جب غزہ کی صورت حال پر بین الاقوامی تشویش پائی جارہی ہے، مسٹر مودی کا اپنے 'عزیز دوست' اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ قربت کا مظاہرہ، اخلاقی نقطہ نظر سے سوالات اٹھاتا ہے۔"

مسٹر مودی آج اسرائیل کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوئے۔

 

Ads