بدھ کو اسرائیل کے دوروزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ایک بیان میں مسٹر مودی نے کہا کہ وہ اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کی دعوت پر وہاں جارہے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے منتظر ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اسرائیلی صدر سے بھی ملاقات کریں گے، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور وہاں مقیم ہندوستانی برادری سے بات چیت کریں گے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری ہے جس میں حالیہ برسوں میں زبردست ترقی اور تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا، "میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اپنی بات چیت کا منتظر ہوں، جس کا مقصد سائنس اور ٹیکنالوجی، اختراع، زراعت، پانی کے انتظام، ٹیکنالوجی، دفاع اور سلامتی، تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ہی عوام کے درمیان تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ہم باہمی فائدے کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اشتراک کریں گے۔"
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس دورے کے دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا، "مجھے اسرائیلی پارلیمنٹ، نیسٹ سے خطاب کرنے والا پہلا وزیر اعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہو گا، یہ ایک ایسا موقع ہوگا جو ہمارے دونوں ممالک کو جوڑنے والے مضبوط پارلیمانی اور جمہوری تعلقات کو خراج تحسین ہوگا۔"
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ہندوستانی کمیونٹی کے لوگوں سے بات چیت کرنے کا بھی بے صبری سے انتظار کررہے ہیں جو طویل عرصے سے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی دوستی کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا، اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے نئے اہداف کا تعین کرے گا نیز مضبوط اور جدت پر مبنی خوشحال مستقبل کے لیے ہمارے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔
