جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ ایک ایسی درخواست کی سماعت کر رہا تھا جس میں ہوائی کرایوں میں اس اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ریگولیٹری رہنما خطوط وضع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
’فیڈریشن آف انڈیا ایئر لائنز‘ (ایف آئی اے) نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست کی، لیکن عدالت نے فی الحال اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس پر بعد کے مرحلے میں غور کیا جا سکتا ہے۔
عدالت کے سامنے دائر درخواست کے مطابق، ہوائی سفر اب کوئی عیاشی نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے ایک لازمی سروس بن چکی ہے۔ درخواست میں مرکزی حکومت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہوائی کرایوں کی قیمتوں کے تعین کے لیے پابند اصول وضع کریں، کرایوں میں اچانک اضافے کی حد مقرر کریں اور سامان و دیگر اضافی چارجز کو منظم کریں۔
حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل انل کوشک نے کہا کہ حکومت اعلیٰ ترین سطح پر اس مسئلے کا جائزہ لے رہی ہے اور چار ہفتے کے اندر جواب داخل کر دیا جائے گا۔
عدالت نے اس کے بعد معاملے کی مزید سماعت 23 مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی۔
