Masarrat
Masarrat Urdu

حکومت امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ملتوی کرے: کانگریس

Thumb

نئی دہلی، 21 فروری (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس نے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہند - امریکہ تجارتی معاہدے کو فی الحال متلوی کرنے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کے میڈیا سیل کے انچارج جیرام رمیش نے ہفتہ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ میں واضح طور پر یہ التزام ہے کہ اگر ایک ملک شرائط میں تبدیلی کرتا ہے تو دوسرا ملک بھی ترمیم کر سکتا ہے۔ اس لیے ہندوستان کو بھی امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اپنے موقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

انہوں نے 2 فروری کو تجارتی معاہدے کا اعلان کرنے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی "جلد بازی" پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب سب کو معلوم تھا کہ امریکہ کی طرف سے عائد درآمداتی محصولات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، تو حکومت کچھ دن اور انتظار کر سکتی تھی۔ امریکی سپریم کورٹ نے مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کے پاس ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

کانگریس لیڈر نے ٹیرف میں 18 فیصد سے 10 فیصد تک کمی کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں یہ شرح 3.5 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی ہے۔ اس معاملے پر وزیر اعظم سے واضح موقف کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہند- امریکہ تجارتی معاہدہ اب بھی نافذ ہے۔ مسٹر جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ابھی تک اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

انہوں نے معاہدے سے زراعتی شعبے کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کہا کہ اس معاہدہ میں امریکی زراعتی مصنوعات، بشمول کپاس، سویابین اور پھلوں پر محصولات میں کمی یا خاتمے التزام ہے، جس سے ہندوستانی کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

 

Ads