Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ–ہند تجارتی معاہدے پر راہل گاندھی برہم، حکومت سے وضاحت طلب

Thumb

نئی دہلی، 15 فروری (مسرت ڈاٹ کام) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے الزام لگایا ہے کہ اس معاہدے سے ملک کے زرعی شعبے کو طویل مدت میں نقصان پہنچ سکتا ہے اور حکومت کو اس پر واضح جواب دینا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو خشک اناج کی درآمد کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہندوستانی مویشی امریکی مکئی سے بنے چارے پر منحصر ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں دودھ کی مصنوعات کی فراہمی بھی امریکی زرعی صنعت پر منحصر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح انہوں نے سویا تیل کی درآمد کی اجازت دیے جانے کے امکان پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجستھان سمیت ملک بھر کے سویا کسانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے مسٹر گاندھی نے سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے ’’اضافی اشیا‘‘ کی اصطلاح کے دائرہ کار پر وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ کیا مستقبل میں دالوں اور دیگر فصلوں کو بھی امریکی درآمدات کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’’غیر تجارتی رکاوٹیں‘‘ ختم کرنے کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اس سے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) فصلوں کے بارے میں ہندوستان کا مؤقف نرم ہو سکتا ہے اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور سرکاری خریداری کے نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف موجودہ حالات کا نہیں بلکہ ہندوستان کی زرعی خود انحصاری اور کسانوں کے مستقبل سے وابستہ ہے، جس پر حکومت کو واضح طور پر جواب دینا چاہیے۔

 

Ads