بنگلہ دیش کے ممکنہ وزیر اعظم طارق رحمان نے کارکنوں اور عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام خود کو محفوظ تصور کریں، انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔
طارق رحمان نے خواتین کے حقوق اور معاشرے میں ان کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے ہماری جماعت ان کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خصوصی توجہ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
علاوہ ازیں، بی این پی کے سربراہ نے تمام کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہوں اور ملک و قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لیے دعا کریں۔
دریں اثناء بی این پی سربراہ طارق رحمان بوگرا کی نشست سے کامیاب ہوئے ہیں، طارق رحمان نے 216284 ووٹ حاصل کرکےکامیابی حاصل کی۔ جماعت اسلامی کے عابد الرحمان 97626 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
قبل ازیں بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن میں ملک میں گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا جس کے مطابق طارق رحمان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوگئی۔
الیکشن کمیشن بنگلہ دیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں لیکر واضح برتری حاصل کرلی جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے وزیراعظم کے امیدوار طارق رحمان کی جانب سے تاحال انتخابی بتائج پر کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ان کی جماعت بی این پی کی جانب سے واضح اکثریت کے باوجود عوام سے خوشیاں منانے کے بجائے سجدہ شکر بجا لانے کی اپیل کی گئی ہے۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 30 میں سے صرف 5 نشستوں پر کامیاب ہوسکی۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے کچھ حلقوں میں الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا ہے ہم یقین دلاتے ہیں کہ ملک کی ترقی کے لیے سیاست برائے سیاست کے بجائے تعمیری سیاست کریں گے۔
یاد رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کے ہاؤس آف دی نیشن (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ ایک حلقے کے انتخابات جماعت اسلامی کے امیدوارکے انتقال کے باعث ملتوی کر دیے گئے۔
دریں اثناء جماعت اسلامی کے امیدوار نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار سے شکست تسلیم کرلی۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیدوار ششیر منیر نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں سنام گنج-2 کے حلقے سے اپنی شکست تسلیم کی ہے۔
ششیر منیر نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے شکست کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے مدِ مقابل امیدوار ناصرالدین چوہدری کو مبارکباد دی۔
اپنی پوسٹ میں ششیر منیر نے لکھا کہ میرے حلقے سے کامیابی حاصل کرنے پر بی این پی کے امیدوار ناصرالدین چوہدری کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو۔
خیال رہے کہ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد پہلے الیکشن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی میں کڑا مقابلہ سمجھا جارہا تھا، نوجوانوں کی نیشنل سٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کی اتحادی ہے، پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔
ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کوپارلیمانی انتخابات میں فیصلہ کن کامیابی دلانے پر طارق رحمان کو مبارکباد دی اور ایک جمہوری اور ترقی پسند ہمسایہ ملک کی حمایت جاری رکھنے کے ہندوستان کےعزم کا اعادہ کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم مودی نے مسٹر رحمان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا، "یہ کامیابی بنگلہ دیش کے عوام کے آپ کی قیادت پر اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔"
وزیر اعظم نے بنگلہ دیش کے جمہوری سفر کے لیے ہندستان کی مسلسل حمایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، "ہندستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور شمولیتی بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا،" جس سے نئی دہلی کی ڈھاکہ کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کی تیاری ظاہر ہوتی ہے۔
اسی کے ساتھ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے اور اگلی حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملنے پر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے رہنما طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔
مسٹر زرداری نے ایک بیان میں بنگلہ دیش کے عوام کے لیے بی این پی کی شاندار کامیابی پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
دریں اثناء بنگلہ دیش کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنمانے کہا ہے کہ ان کی جماعت سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے ہندوستان سے باضابطہ طور پر مطالبہ کرے گی۔
بی این پی کی پارٹی کمیٹی کے رکن کاکس بازار-1 کے حلقہ انتخاب سے کامیاب ہونے والے صلاح الدین احمد نے ڈھاکہ میں بی این پی کے دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت قانون کے مطابق 'شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے دباؤ ڈالے گی'۔ انہوں نے کہا کہ 'یہ معاملہ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ اورہندوستان کی وزارتِ خارجہ کے درمیان ہے۔ ہم ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ انہیں واپس بھیجا جائے تاکہ وہ عدالت میں مقدمات کا سامنا کریں'۔
