وزیراعظم نے ان ناقدین کو سخت جواب دیا جو 2047 کے ہدف کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ 2047 تک کون زندہ رہے گا؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر آزادی کی جنگ لڑنے والوں، لاٹھیاں کھانے والوں اور پھانسی پر جھولنے والوں نے یہی سوچا ہوتا کہ ’ہم آزادی دیکھیں گے یا نہیں‘، تو کیا ملک کبھی آزاد ہوتا؟ ہمارا مقصد آج بیج بونا ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اس کا پھل کھا سکیں۔"
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بڑے بدلاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اس میں انقلابی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے آئندہ ہفتے ہونے والی ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوساتن ان تبدیلیوں کا سامنا کرنے اور دنیا کی قیادت کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
وزیراعظم نے اپنی حکومت کے انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ 25 کروڑ لوگوں کے غربت سے نکلنے کے باوجود مفت اناج کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ وہ دوبارہ غربت کے چنگل میں نہ پھنس جائیں۔ تین طلاق سے نجات، خواجہ سراؤں (ٹرانسجینڈر) کے لیے باعزت زندگی کا قانون، اور مقننہ میں خواتین کے لیے ریزرویشن حکومت کی حساس سوچ کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے پچھلے 11 سالوں کی اقتصادی پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔ اب توجہ صرف فنڈز مختص کرنے پر نہیں بلکہ نتائج حاصل کرنے پر ہے۔ موجودہ بجٹ میں 17 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ 2004-14 کے مقابلے میں، 2014-24 کے دوران ریاستوں کو منتقل کیے گئے وسائل میں زبردست اضافہ ہوا ہے جو 84 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔
2014 سے پہلے صرف 4 معاہدے ہوئے تھے، جبکہ موجودہ حکومت نے اب تک 38 ممالک کو کور کرنے والے معاہدے کیے ہیں، جو ہندستان کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کی علامت ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2014 سے پہلے ہندستان کی معیشت دنیا کی پانچ کمزور ترین معیشتوں میں شمار ہوتی تھی، لیکن آج ہندستان خود اعتمادی سے بھرپور ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مضبوط ایکو سسٹم کی وجہ سے اب ہندوستان عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور دنیا ہندستان پر بھروسہ کرتی ہے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر کیا
اصلاحات ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہمارا یقین تھا۔ جن لوگوں تک پہلے حکومتیں نہیں پہنچ سکیں، انہیں نظام سے جوڑنا ہی مودی کا اصل مقصد ہے۔
