Masarrat
Masarrat Urdu

امریکی فوجی نقل و حرکت سے ایران مرعوب نہیں ہوگا، عباس عراقچی کا مؤقف

  • 08 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 8 فروری (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے طاقت کا مظاہرہ ایران کو خوفزدہ نہیں کرسکتا، جبکہ مسقط میں ہونے والی حالیہ بات چیت صرف جوہری امور تک محدود رہی۔

اتوار کے روز تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فوجی اجتماع ایران کے لیے تشویش کا باعث نہیں بنے گا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایران ایک سفارتی قوم بھی ہے اور ضرورت پڑنے پر دفاع کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تہران جنگ کا خواہاں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسقط مذاکرات میں صرف جوہری فائل زیر بحث آئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف سے صرف مصافحہ ہوا، باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق موجودہ مذاکرات اور 2005 کی بات چیت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اب خطے کے ممالک کی شرکت زیادہ نمایاں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکہ کی فوجی نقل و حرکت مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن کی سنجیدگی پر سوالات اٹھاتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی ایلچی سٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر نے حال ہی میں بحیرہ عرب میں ایران کے قریب موجود طیارہ بردار جہاز "ابراہم لنکن" کا دورہ کیا تھا، جہاں ویٹکوف نے صدر ٹرمپ کے "طاقت کے ذریعے امن" کے پیغام کا اعادہ کیا۔

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مسقط میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات سنہ 2024ء کے بعد پہلی باضابطہ سفارتی پیش رفت تھے۔ مذاکرات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کو مثبت قرار دیا جبکہ عباس عراقچی نے بھی ماحول کو تعمیری بتایا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر کوئی امریکی حملہ ہوا تو تہران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

Ads