Masarrat
Masarrat Urdu

اردو ہماری شناخت ہے، اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا: ایم جے اکبر

Thumb

نئی دہلی، 6 فروری (مسرت ڈاٹ کام) قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے منعقد کیے جانے والے سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس بعنوان’کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب‘ کا افتتاح آج عمل میں آیا۔‘

جاری ریلیز کے مطابق اس موقعے پر ایم جے اکبر (معروف صحافی و سابق وزیرِ مملکت برائے امور خارجہ، حکومت ہند)، پروفیسر طارق منصور (رکن لیجسلیٹو کونسل، اترپردیش وسابق وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)، پروفیسر سید عین الحسن (وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) ومحترمہ کامنا پرساد(بانی جشن بہار ٹرسٹ) موجود رہے۔

قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے شال پوشی و مومنٹو کے ذریعہ ان تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں بولی جانے والی بے شمار زبانوں میں اردو زبان کئی اعتبار سے منفرد ہے۔ اردو کا کوئی مخصوص علاقہ نہیں لیکن اردو ہر علاقے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ 2047 میں جب ملک وکست بھارت کا جشن منا رہا ہوگا اس وقت ملک کی زبانوں کا کردار بھی قابل دید ہوگا۔ اس لیے اردو زبان کی ترقی کے لیے اسے نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور نئے تقاضوں کے مطابق بنانا ضروری ہے۔ انھوں نے کانفرنس کے حوالے سے مختلف موضوعات و مسائل کا بھی ذکر کیا اور ملک و بیرون ملک سے تشریف لانے والے مہمانوں کا استقبال کیا۔ آپ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور حکومت ہند کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مہمان اعزازی کامنا پرساد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کثیر لسانی ہندوستان کے منظر نامے پر روشنی ڈالی اور ملک میں زبان کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو کا وجود ہندوستان کی ہزاروں سال کی تہذیبوں کے میل جول سے عمل میں آیا ہے اور مختلف ہندوستانی زبانوں میں اس کے اثرات نظر آتے ہیں۔ عربی، فارسی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کی آمیزش کا سلسلہ بہت قدیم ہے اور اس طرح یہ زبان شیریں تر ہوتی گئی۔ انھوں نے کہا اردو کہیں عشق کے اظہار کی زبان بنی تو کہیں ملک کی آزادی کے لیے انقلاب کی آواز بنی۔ وقت گزرنے کے ساتھ لسانی آمیزش کا سلسلہ جاری ہے اور یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اردو ہندوستانی زبان ہونے کے ساتھ اس کی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ ہے- کشادہ دلی، اعلی ظرفی اور ملائمیت اس زبان کی بڑی خوبیاں ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹر شمس اقبال کو اس اہم زبان سے متعلق جشن بپا کرنے کے لیے مبارکباد پیش کی اور شکریہ بھی ادا کیا۔

دوسرے مہمان اعزازی پروفیسر سید عین الحسن نے اردو زبان کی کشادہ قلبی اور دوست نوازی پر اظہار خیال کیا اور دیگر زبانوں کے ساتھ اردو کے خوبصورت میل جول پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اردو زبان کی شیرینی کے ساتھ اس میں پائے جانے والے طنز، اشارہ اور کنایہ کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو نے ہر کسی کا احترام کیا۔ فلمی نغموں نے خوش کلامی کے خوبصورت نمونے پیش کیے۔ ایسی صورت میں اس کی مقبولیت سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ اردو میں ایک نمک ہے جو اسے محسوسات کی زبان بنا دیتا ہے۔ اردو نے لوگوں کو حساسیت کا مزاج عطا کیا۔

مہمان ذی وقار پروفیسر طارق منصورنے عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر شمس اقبال کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہندوستان زبانوں کے اعتبار سے بیحد ثروت مند ہے۔ انھوں نے ملک کے مختلف شہروں میں قومی اردو کونسل کے کامیاب کتاب میلوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے اردو زبان کی مقبولیت قرار دیا اور اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ اس کے بولنے والے ملک کے ہر خطے میں پائے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے ذاتی طور پر کوششیں کرنی بھی ضروری ہیں۔ اردو زبان کے رسم الخط کو باقی رکھنا اور اسے سیکھنا اس کی بقا کے لیے بیحد اہم ہیں۔ اردو کا دیگر قدیم ہندوستانی زبانوں سے بھی رشتہ ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں مادری زبان کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اردو آبادی کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اردو خالص ہندوستان کی زبان ہے اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے نہیں۔ عالمی اردو کانفرنس اردو کی کامیابی اور ترویج کا سبب بنے گی۔

مہمان خصوصی ایم جے اکبر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں نے اپنی ماں سے سیکھی۔ اردو ایک ایسی زبان ہے جو صرف محبت سے نہیں آتی بلکہ اس کے لیے جنون چاہیے۔ اردو زبان کسی مذہب کی زبان نہیں لیکن 1947 کا سانحہ اس غلط فہمی کا سبب بنا۔ البتہ ہمیں اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہم آج جس مجلس میں بیٹھے ہیں اس میں اردو پر یقین کرنے والے اور اسے اپنا بنانے والے افراد موجود ہیں۔ اردو ہماری شناخت ہے، اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔ یہ محبت کی زبان ہے اور کتاب میلوں کی کامیابی سے اس کے قارئین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اردو کے تئیں اپنا ذہن و دماغ صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔

اس موقعے پر قومی اردو کونسل کی مطبوعہ کتاب ''وکست بھارت کا وژن اور اردو زبان'' کا اجرا بھی کیا گیا۔ یہ کتاب گزشتہ عالمی اردو کانفرنس اور پٹنہ سمینار میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے، جسے ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے ترتیب دیا ہے۔

اس افتتاحی سیشن کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر، خسرو فاؤنڈیشن، نئی دہلی) نے اور شکریے کی رسم ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی (اسسٹنٹ ڈائرکٹر، اکیڈمک، این سی پی یو ایل) نے انجام دی۔ تقریب کا اختتام راشٹر گان پر ہوا۔

افتتاحی سیشن کے بعد ایم اے انصاری آڈیٹوریم (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) میں ''ہیومر باز'' کے عنوان سے ایک مزاحیہ ثقافتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں معروف اداکار اور کامیڈین رحمان خان نے اپنے رفقا کے ساتھ فن کاری کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر جاوید حسن نے اس پروگرام کا تعارف پیش کیا۔ اس موقع پر ملک اور بیرون ملک کے مہمانوں کے علاوہ کونسل کے معزز اراکین، افسران اور سامعین کی بڑی تعداد موجود رہی۔

 

Ads