تہران،6 فروری (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے مقصد سے عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچ گئے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے جہاں کل بروز جمعہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاملے پر ایران کے بالواسطہ مذاکرات ہونے والے ہیں۔ مسقط پہنچنے پر عمان کے اعلیٰ عہدے داروں نے وزیر خارجہ ایران کا استقبال کیا۔
اس سے قبل ایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے جمعرات کی شب ایکس پر ایک پیغام میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کی مسقط روانگی کی خبر دی تھی۔ انہوں نے وزیر خارجہ کے دورۂ مسقط کے بارے میں لکھا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عراقچی ایک سفارتی وفد کے ہمراہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے مسقط روانہ ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ سفارتی عمل پوری قوت اور سربلندی کے ساتھ جوہری مسئلے کے بارے میں ایک منصفانہ، فریقین کے لیے قابل قبول اور باعزت سمجھوتے تک پہنچنے کے مقصد سے انجام پا رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ سابقہ وعدہ خلافی، گزشتہ جون کی عسکری جارحیت اور گزشتہ جنوری کی بیرونی مداخلتوں جیسے ماضی کے تلخ تجربات ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں، اور ہم خود کو ہمیشہ ایرانی قوم کے حقوق کا مطالبہ کرنے کا پابند سمجھتے ہیں، ساتھ ہی ہم پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ایرانی قوم کے مفادات کو حاصل کرنے اور خطے میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے سفارت کاری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید لکھا کہ ہم تمام دوست، ہمسایہ اور علاقائی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس عمل کی تشکیل کے لیے ذمہ داری اور فکرمندی کے ساتھ کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ امریکی فریق بھی ذمہ داری، حقیقت پسندی اور سنجیدگی کے ساتھ اس عمل میں حصہ لے گا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سید عباس عراقچی نے اپنی ایک ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات جمعہ کو صبح 10 بجے مسقط میں ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ مذاکرات کے مقام کو استنبول سے عمان منتقل کرنا چاہتا ہے اور بات چیت کسی دوسرے ثالث فریق کی شمولیت کے بغیر محض دو اصل فریقوں کے درمیان ہوگی تاکہ پورے مذاکراتی عمل میں مکمل توجہ صرف اصل موضوع ’’جوہری مسائل‘‘ پر مرکوز رہے۔
ایران کے بعض عہدے داروں کے مطابق ایران و امریکہ کے مابین یہ مذاکرات بالواسطہ طور پر انجام پائیں گے۔
