انڈیگو نے جمعرات کو شیئر بازار کو اطلاع دی کہ سی سی آئی نے 4 فروری کے اپنے حکم میں اس کے خلاف جانچ شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ سی سی آئی کے حکم میں کہا گیا ہے کہ جن مسافروں نے انڈیگو کی پروازوں کے ٹکٹ بک کرائے تھے ان کے پاس آخری وقت میں پرواز منسوخ ہونے کی حقیقت قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس کے علاوہ مسافروں کو خود متبادل تلاش کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
رونیت کور کی سربراہی والی سی سی آئی کی چار رکنی بنچ نے اپنے حکم میں کہا، ’’انڈیگو کی غالب حیثیت کو دیکھتے ہوئے مسافروں کو حقیقتاً باندھ دیا گیا اور ان کے پاس کوئی معقول متبادل نہیں بچا تھا۔ یہ مسابقتی قانون کی دفعہ 4(2)(اے)(1) کی خلاف ورزی ہے۔‘‘
کمیشن نے کہا کہ ہزاروں پروازیں منسوخ کر کے جو صلاحیت کا بڑا حصہ تھیں انڈیگو نے دراصل بازار میں اپنی خدمات روک دیں، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی اور زیادہ مانگ کے وقت صارفین کی رسائی محدود ہو گئی۔ یہ دفعہ 4(2)(بی)(1) کی خلاف ورزی ہے۔\
حکم میں کہا گیا، ’’ایئرلائن کا یہ طرز عمل پہلی نظر میں ملک میں مسابقت کو سنگین طور پر متاثر کرتا دکھائی دیتا ہے، اس لیے کمیشن کی رائے ہے کہ پہلی نظر میں دونوں دفعات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘‘
سی سی آئی نے ڈائریکٹر جنرل کو معاملے کی جانچ کا حکم دیتے ہوئے 90 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کارتیکی راؤل نامی ایک مسافر نے کمیشن کے پاس ایئرلائن کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے 4 دسمبر کو انڈیگو کی پرواز سے بنگلورو سے دہلی سفر کیا تھا اور 5 دسمبر کو دہلی۔گوا۔بنگلورو روٹ پر 7,173 روپے میں واپسی کا ٹکٹ بک کیا تھا، تاہم ایئرلائن نے واپسی کی پرواز منسوخ کر دی۔ اس کے باعث دیگر ایئرلائنز کے کرائے بھی کافی بڑھ گئے اور آخرکار انہوں نے دو دن بعد انڈیگو ہی کے نیٹ ورک پر 17,000 روپے میں دہلی سے بنگلورو کا ٹکٹ بک کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انڈیگو نے ’خود اپنی پرواز منسوخ کی اور پھر مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کیا‘، جو اس کی غالب حیثیت کا غلط استعمال اور مسابقتی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
کمیشن نے جانچ کے دوران مختلف ایئرلائنز کی مارکیٹ شیئر اور مختلف روٹس پر پروازوں کی تعداد سے متعلق معلومات حاصل کیں اور پایا کہ مسافروں کی تعداد اور دستیاب سیٹ کلو میٹر کے لحاظ سے انڈیگو کی حصے داری مسلسل 60 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ مزید یہ کہ 330 سے زائد روٹس پر خدمات فراہم کرنے والی وہ واحد کمپنی تھی جس سے اس کی غالب حیثیت ثابت ہوتی ہے۔
کمیشن نے انڈیگو کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ اس معاملے کی جانچ اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتی اور ڈائریکٹر جنرل کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔
