وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان دنیا میں مواقعوں کے قافلے کی قیادت کر رہا ہے اور دنیا کے تمام بڑے ممالک اس کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں، جبکہ کانگریس کے دور میں یہ کہا جاتا تھا کہ ہندوستان سے مواقع کی بس چھوٹ گئی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس کے وقت میں یہ بات عام تھی کہ ہندوستان'بس مس' کر گیا ہے، لیکن آج ہندوستان خود اس قافلے کی رہنمائی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مستقبل کے ساتھ ساتھ حال کو بھی روشن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم سمت طے کر کے اور بجٹ بنا کر چلتے ہیں۔ ہمارا مقصد محض انتخابات نہیں بلکہ 2047 تک وکست بھارت کا ہدف ہے۔ انتخابات آئیں گے اور جائیں گے، لیکن ہم نوجوان نسل کو ایک وکست بھارت سونپنا کا مقصد لے کر چل رہے ہیں۔"
مسٹر مودی نے کہا کہ ملک ہر شعبے میں نئے عزم اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت کے میدان میں ملک کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور اہم معدنیات کے لیے ہم بھیک نہیں مانگیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ ہندوستان نے صحیح سمت اختیار کی ہے اور اب دنیا کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کہیں ان سے یہ 'بس مس' نہ ہو جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والا وقت ہندوستان اور نوجوانوں کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی اصلاحات اور عوام کی شرکت کی بدولت ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے، مہنگائی کم ہے اور وہ دنیا کے لیے امید کی ایک کرن بن گیا ہے، جبکہ کانگریس 'مودی کی قبر کھودنے' کے نعروں میں الجھی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم وکست بھارت کی بنیاد کو مضبوط کر کے اسے طاقت دے رہے ہیں، ملک کے نوجوانوں کی زمین مضبوط کر رہے ہیں اور کانگریس مودی کی قبر کھودنے میں لگی ہے۔ جو ملک کے شہری کی قبر کھود رہے ہیں، کیا یہ آئین اور جمہوریت کی توہین نہیں ہے؟ یہ لوگ اسی طرح کی اقدار میں پروان چڑھے ہیں۔"
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ 12 سال سے ہماری توانائی کا ایک بڑا حصہ دنیا میں ہندوستان کے اس شبیہ کو صاف کرنے میں صرف ہو رہا ہے جو کانگریس نے اپنے دورِ حکومت میں بنایا تھا۔
مسٹر مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے، کانگریس کے دور میں منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، بینکوں سے اثر و رسوخ اور فون پر اربوں روپے کے قرضوں کی تقسیم، غیر ملکی معاہدوں میں بدعنوانی اور سرکاری اداروں کی بدحالی جیسے معاملوں پر اہم اپوزیشن جماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
کانگریس اور کچھ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے واک آؤٹ کے درمیان، وزیر اعظم کے تقریباً پونے دو گھنٹے کے جواب کے بعد، ایوان نے شکریہ کی تحریک پر اپوزیشن ارکان کی تمام ترمیمی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ لوک سبھا اس تحریک کو پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔
مسٹر مودی نے صدر جمہوریہ کے خطاب کے دوران اپوزیشن کے ہنگامے پر کانگریس پر شدید حملہ کیا اور کہا کہ لوگوں کی توہین کرنا کانگریس کی عادت ہے، یہاں تک کہ انہوں نے صدر جمہوریہ کی بھی توہین کی ہے۔ انہوں نے خطاب کے دوران رخنہ ڈالنے کو آئین اور جمہوریت کی توہین قرار دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کے کاموں سے کانگریس مایوس ہے اور اسی لیے وہ 'مودی کی قبر کھودنے' کے نعرے لگا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کی 140 کروڑ عوام کی دعاؤں اور آشیرواد کا 'کوچ' حاصل ہے۔
انہوں نے پروجیکٹوں کی تکمیل کو ایک اہم عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت اور کانگریس کی سابقہ حکومتوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 'سردار سروور نرمدا ڈیم' پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تصور ان کی پیدائش سے پہلے سردار پٹیل نے پیش کیا تھا، لیکن دہائیوں تک التوار میں رہنے کے بعد اس کا افتتاح بطور وزیر اعظم انہوں نے خود کیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سے متعلق ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خود محترمہ گاندھی کو ہماچل پردیش کے ایک پروجیکٹ کے لیے پلاننگ کمیشن سے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اس کے باوجود کانگریس کے دور میں پلاننگ کمیشن کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، اسی لیے انہوں نے 2014 میں اسے ختم کر کے 'نیتی آیوگ' تشکیل دیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کے دور کے نامکمل پروجیکٹوں سمیت تمام زیر التوا پروجیکٹس کو مکمل کرنے کے لیے 'پرگتی منچ' شروع کیا، جس سے 85 لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کے کام میں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صرف ووٹ بینک کے لیے تصوراتی اعلانات کرتی ہے، جبکہ ہم سیاست سے بالاتر ہو کر ملک کو اول مانتے ہوئے پروجیکٹوں کو وقت سے پہلے مکمل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے شمسی توانائی اور پیٹرول میں ایتھنول کی بلینڈنگ کے اہداف کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کا ذکر کیا۔
مسٹر مودی نے محترمہ اندرا گاندھی کے دورہ ایران کے ایک واقعے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب محترمہ گاندھی سے پوچھا گیا کہ ان کے سامنے کتنے مسائل ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ جب ان کے والد (جواہر لعل نہرو) سے یہ سوال کیا گیا تھا تو ان کا جواب '35 کروڑ' تھا، جو اس وقت ہندوستان کی آبادی تھی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اندرا جی کے مطابق اب ان کا مسئلہ '57 کروڑ' ہے۔ وزیر اعظم نے طنز کیا کہ کانگریس ہم وطنوں کو 'مسئلہ' مانتی ہے، جبکہ ہمارا خیال ہے کہ آج ہمارے پاس '140 کروڑ حل' موجود ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کو دلتوں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری سے بھی نفرت ہے، یہاں تک کہ اس نے بھارت رتن بھوپین ہزاریکا کی بھی توہین کی ہے۔ انہوں نے کانگریس کے ایک رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ کل ایک رکن پارلیمنٹ کو 'غدار' کہا گیا، جو سکھوں اور ان کے گروؤں کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس پر آج معذرت کر سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کانگریس کے فرسٹ فیملی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خاموشی سے مہاتما گاندھی کا 'سرنیم بھی قبضے میں کرلیا۔
سال 2047 تک ملک کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے حوالے سے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی حکومت نے 'وکست بھارت' کا خواب دیکھا ہے جو اب ایک 'عزم' میں بدل چکا ہے۔ اب ہر کوئی 2047 تک وکست بھارت کی بات کر رہا ہے، لیکن کچھ مایوس لوگ اس پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
