Masarrat
Masarrat Urdu

ممتابنرجی نے گیانیش کمار کے خلاف آواز اٹھائی، مواخذے پر غور

Thumb

نئی دہلی، 3 فروری (مسرت ڈاٹ کام) چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دھمکانے اور بدسلوکی کرنے کا الزام لگانے کے ایک دن بعد، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو سی ای سی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’کل جو کچھ ہوا اس کے بعد ہم اس الیکشن کمشنر سے کسی چیز کی امید نہیں رکھ سکتے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سی ای سی کے خلاف مواخذے کی تجویز پر غور کر رہی ہیں، تو محترمہ بنرجی نے کہا،’’"اگرچہ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد (نمبرز) نہیں ہیں، لیکن تجویز پیش کی جا سکتی ہے۔ عوامی مفاد میں، ہم پارٹی کے اندر اس پر بحث کریں گے اور اس کی حمایت کریں گے۔ کم از کم یہ ریکارڈ پر تو رہے گا۔‘‘

وزیر اعلیٰ یہاں الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر میں مسٹر کمار کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دے رہی تھیں، جہاں انہوں نے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے معاملے پر سی ای سی کی سخت نکتہ چینی کی تھی۔

محترمہ بنرجی نے کمیشن پر’’جانبدارانہ اور متعصبانہ‘‘ طریقے سے کام کرنے کا الزام لگایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ عمل سیاسی مقصد کے تحت کیا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن سے باہر آنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محترمہ بنرجی نے کہا تھا، ’’ہمیں دکھ پہنچا ہے اور ہم پریشان ہیں۔ میں کئی سالوں سے سیاست میں ہوں۔ میں چار بار وزیر اور سات بار ایم پی رہ چکی ہوں، لیکن میں نے کبھی ایسا (چیف) الیکشن کمشنر نہیں دیکھا جو اتنا مغرور اور اتنا جھوٹا ہو۔‘‘ جب ایک رپورٹر نے کہا کہ کمیشن نے وزیر اعلیٰ پر ان کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگایا ہے، تو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے جواب دیا ، ’’آپ کو ہم سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن براہ کرم سوچیں کہ ایک وزیر اعلیٰ نے سی ای سی کو چھ خط لکھے ہیں اور ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ خط موصول ہونے کی اطلاع تک نہیں دی گئی۔ لہٰذا آپ آسانی سے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون مغرور رہا ہے۔‘‘

کمیشن کے خلاف اپنے تیور سخت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے، کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ چار ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن ایس آئی آر صرف اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں میں کیا جا رہا ہے۔ یہ آسام میں نہیں ہو رہا ہے۔‘‘

انہوں نے ایک افسر، سیما کھنہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ناموں کو حذف کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے، الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) کے دستخط نہیں لیے گئے اور یہ عمل غیر قانونی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’وہ رول مبصرین اور مائیکرو مبصرین مقرر کر رہے ہیں اور وہ کمیشن اور ایک مخصوص پارٹی کی ایما پر کام کر رہے ہیں۔ رول مبصرین کے ساتھ ایس آئی آر عمل کے آقاؤں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ غیر قانونی ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی(ایس آئی آر) کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھائے ۔

انہوں نے الزام لگایا، ’’ذرا سوچیں، ووٹروں کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر 58 لاکھ نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ میرے انتخابی حلقے (بھبانی پور) میں، جہاں تقریباً 2 لاکھ ووٹرز ہیں، وہاں تضادات کا حوالہ دیتے ہوئے تقریباً 45,000 نام حذف کر دیے گئے اور وہ بھی ای آر اوزکے علم میں لائے بغیر‘‘۔

انہوں نے کہا،’’زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دے کران کے ناموں نکالا جا رہا ہے،‘‘ اور اپنے ہمراہ آئے ہوئے ان ارکان سے — جن کے نام حذف کر دیے گئے ہیں — کہا کہ اگر انہیں ووٹرفہرست کے مسودے میں مردہ دکھایا گیا ہے تو وہ اپنے ہاتھ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تضادات کی فہرست مانگی تھی، لیکن اس پر عمل کرنے کے بجائے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی لیڈروں کو مبصر بنا کر بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں کمیشن کا احترام کرتی ہوں، لیکن کچھ لوگ طوطے کی طرح کام کر رہے ہیں۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے الیکشن کمیشن کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا کہ ایس آئی آر میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی ہوگی۔

تاہم، بنرجی نے سپریم کورٹ جانے کے امکان پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں عدالت کا احترام کرتی ہوں اور عدالتی معاملات پر تبصرہ نہیں کروں گی،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت مکمل طور پر آئینی اصولوں کے مطابق کام کرے گی، ساتھ ہی پارٹی کی جانب سے سیاسی پروگرام چلائے جائیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایس آئی آر کے تحت تیار کردہ ووٹر فہرست کو قبول کریں گی، تو وزیراعلیٰ نے کہا، ’’پہلے فہرست آنے دیں۔ پھر ہم دیکھیں گے۔ جو بھی ہوگا، ہم دیکھ لیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’ہم الیکشن جیتیں گے اور اگلی بار جب میں آؤں گی، تو لذیذ مٹھائیاں لے کر آؤں گی، ’دہلی کا لڈو‘ نہیں۔‘‘

Ads