اسلام آباد، 24 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے نام نہاد عزہ امن کونسل میں شمولیت پر حکومت کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔یہ اطلاع سحر ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دی۔
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی منظوری کے بغیر ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن کونسل میں شمولیت پر حکومت کی شدید نکتہ چینی کی ہے البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم قومی مفاد اور مسلم برادری کی اجتماعی ترجیحات کے مدنظر اٹھایا گیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں کہ جب فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں نے نام نہاد غزہ امن کونسل کو صیہونی حکومت کے مفادات کی تکمیل کا تسلسل قرار دیتے ہوئے اس کی تشکیل پر حیرت کا اظہار کیا ہے، دنیا کے کئی ممالک نے غزہ کے لئے امریکی صدر کے ہاتھوں امن کے نام پر بنائی گئی کونسل میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ٹرمپ کی نام نہاد غزہ امن کونسل میں شامل ہونے والے ممالک میں بڑی تعداد مسلم ممالک کی بھی ہے۔
اب تک پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر امریکی ساختہ اس کونسل میں شمولیت کے لئے حامی بھر چکے ہیں۔ ان ممالک کے برخلاف بعض یورپی ممالک منجملہ فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور ناروے نے امریکی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ شمولیت اور عدم شمولیت کا فیصلہ اپنے اسٹریٹیجک شراکت داروں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد ہی کرے گا۔
اس درمیان پاکستانی حکومت کے شمولیت پر مبنی اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے جس میں متعدد سیاسی رہنماؤں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے شمولیت سے اسلام آباد کی دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
علامہ راجہ ناصر نے آج پارلیمنٹ کت مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے لوگ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا ہے، جو کام نیتن یاہو نہ کر سکا وہ اب امن کونسل کے نام پر شروع ہوا ہے، نیتن یاہو آئے دن حملے اور قبضے کر رہا ہے، ہم اتفاق رائے کے بغیر نام نہاد کونسل کا حصہ بن گئے۔ علامہ راجہ ناصر اس سے قبل امریکی اقدام کو موجودہ کثیرالجہتی نظام کو بدلنے یا کم از کم اسے حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش قرار دے چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان جو گزشتہ روز اہم فیصلوں پر قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہ لینے پر حکومت کو ہدف تنقید بنا چکے ہیں، آج مشترکہ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہم ایسے فورم میں جارہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو کسی صورت بھی ایسی امریکی قیادت والی 'امن کونسل‘ کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں نیتن یاہو بھی شامل ہو۔
