Masarrat
Masarrat Urdu

ڈوڈہ میں دل دہلا دینے والا سانحہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ہلاک، 11 دیگر زخمی

Thumb

جموں،22جنوری(مسرت  ڈاٹ کام) ضلع ڈوڈہ کے خانی ٹاپ کے بلند و بالا پہاڑی علاقے میں جمعرات کے روز ایک ہولناک سڑک حادثے نے پوری ریاست کو سوگوار کر دیا، فوج کی ایک بُلٹ پروف گاڑی پھسل کر تقریباً 200 فٹ گہری کھائی میں گرگئی، جس کے نتیجے میں 10 بہادر فوجی اہلکار شہید جبکہ 11 شدید زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ دوپہر کے قریب اُس وقت پیش آیا جب فوجی گاڑی بھدرواہ–چھمبہ شہاراہ پر ایک اعلیٰ چوکی کی طرف جا رہی تھی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی خانی ٹاپ کے 9 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک پُرخطر موڑ پر ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور لمحوں میں ہی گہری کھائی میں گرگئی۔ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور حادثے کے فوراً بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔

حادثے کی خبر ملتے ہی فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ایک مشکل اور حساس ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ چار فوجی اہلکار موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے جبکہ 11 زخمیوں کو انتہائی دشوار گزار مقام سے نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا۔

بعد ازاں چھ مزید زخمی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جس کے بعد شہید اہلکاروں کی تعداد 10 ہو گئی۔ زخمیوں میں سے 10 کو بہتر طبی سہولیات کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادھمپور کے کمانڈ اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک زخمی بھدرواہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

بھدرواہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سمت کمار بھٹیال نے بتایا کہ ’یہ ایک نہایت افسوسناک حادثہ ہے۔ 10 اہلکاروں کی شہادت ہو چکی ہے جبکہ 11 زخمی ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے کئی زخمیوں کی جان بچائی۔‘

حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک بیان میں کہا کہ ’ڈوڈہ کے اس المناک حادثے میں 10 بہادر فوجی اہلکاروں کی شہادت پر دل انتہائی غمگین ہے۔ ملک ان کی بہادری اور قربانی کو کبھی نہیں بھولے گی۔‘

ایل جی منوج سنہا نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’اس صدمے کی گھڑی میں پورا ملک متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ تمام زخمی جلد صحت یاب ہوں۔‘

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے خطے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے بہادر فوجی اہلکاروں کی شہادت نے ہر دل کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ان سپاہیوں کی خدمت اور قربانی کو ہمیشہ احترام کی نظر سے یاد رکھا جائے گا۔‘

انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جن اہلکاروں کو شدید چوٹیں آئی ہیں، انہیں فوری طور پر بہتر طبی مراکز منتقل کرنا قابلِ تحسین قدم ہے۔

ڈوڈہ، کشتواڑ اور بھدرواہ کے پہاڑی علاقوں میں ایسے حادثات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ خراب موسم، پھسلن، تنگ سڑکیں اور حفاظتی اقدامات کی کمی اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مقامی لوگ بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ فوجی اور سویلین گاڑیوں کے لیے بہتر حفاظتی بندوبست اور سڑکوں کی مرمت ناگزیر ہے۔

حادثے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیوں انتہائی حساس اور برفیلے علاقوں میں فوجی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سڑک نظام کو ترجیح نہیں دی جاتی۔

ڈوڈہ سے لے کر ادھمپور اور سرینگر تک ہر جگہ اس حادثے کی خبر غم اور دکھ کے ساتھ سنی گئی۔ عام شہریوں اور سیاسی رہنماؤں نے شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

ڈوڈہ کا یہ المناک حادثہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ملک کی سرحدوں اور اندرونی علاقوں میں تعینات ہمارے بہادر سپاہی روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ایسے حادثات نہ صرف انسانی المیہ ہوتے ہیں بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ حساس علاقوں میں فوجی نقل و حرکت کے دوران حفاظتی اقدامات کو کس قدر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک ان بہادر شہداء کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

 

Ads