ڈاووس، 22 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ صحیح سمت میں نہیں جا رہا بلکہ خود کو تباہ کر رہا ہے۔
ڈیووس میں آج بدھ کے روز ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ یورپ کے عوام کا خیال رکھتا ہے اور ان روابط پر یقین رکھتا ہے جو ہمیں یورپیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک مضبوط اور متحد مغرب چاہتے ہیں اور یورپ کو ایک حلیف کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم، سب سے اہم نکتے پر زور دیتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ جزیرہ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتے ہیں، اسے کرایے پر لینا نہیں چاہتے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ نیٹو میں امریکہ کے علاوہ کوئی ایسا ملک نہیں جو گرین لینڈ کا دفاع کر سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیٹو کے تمام ممالک کو اپنے دفاع کے قابل ہونا چاہیے اور وہ نیٹو سے صرف اتنا مانگ رہے ہیں کہ گرین لینڈ انہیں دے دیا جائے تاکہ وہ اس کا دفاع کر سکیں۔
انہوں نے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے لیے اپنے احترام کا اظہار کرتے ہوئے جزیرے کی خریداری پر مذاکرات کی خواہش ظاہر کی۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں گرین لینڈ کی نایاب معدنیات کی ضرورت نہیں بلکہ یہ جزیرہ امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ امریکہ، روس اور چین کے درمیان ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) مقام پر واقع ہے اور امریکیوں نے اسے ڈنمارک کے پاس چھوڑ کر بیوقوفی کی تھی۔ تاہم انہوں نے اطمینان دلایا کہ وہ اس پر قبضے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق امریکہ کو پہلے کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہے اور ماضی میں امریکہ نے ہی گرین لینڈ کی دشمنوں سے حفاظت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا "ہم نے گرین لینڈ کو بچانے کے لیے ڈنمارک کی خاطر جنگ لڑی۔"
ٹرمپ نے وضاحت کی کہ وہ عالمی سلامتی کے تحفظ کے لیے برف کا وہ ٹھنڈا ٹکڑا مانگ رہے ہیں جسے گرین لینڈ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس جزیرے پر اب تک کا سب سے عظیم "سنہرا گنبد" (Golden Dome) تعمیر کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ، روس اور چین کے مقابلے میں امریکہ اور نیٹو کی سکیورٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے ان مقاصد پر یورپی ممالک کے اعتراض نے انہیں برہم کر دیا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے حلیفوں کو 25 فیصد تک نئی کسٹمز ڈیوٹی (ٹیرف) نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
