Masarrat
Masarrat Urdu

انٹیلیجنس وارننگز کے بعد ہندوستان نے بنگلہ دیش سے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا

Thumb

نئی دہلی، 21 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) باوثوق ذرائع کے مطابق، ہندوستان کو ایسی معتبر انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بنگلہ دیش میں ہندوستان کی سفارتی موجودگی، بشمول مشنز، سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔

ان اطلاعات کے نتیجے میں ہندوستان نے بنگلہ دیش سے اپنے سفارت کاروں کے خاندانوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ محمد یونس کی قیادت میں قائم حکومت کے دور میں تعلقات کو خراب ہونے دیا گیا ہے۔‘‘

انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق، اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بدامنی کے بعد بڑی تعداد میں رہا ہونے والے عسکریت پسندوں نے بنگلہ دیش کے اندر دوبارہ منظم ہونا شروع کر دیا ہے۔ انٹیلیجنس جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ عناصرہندوستانی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

خطرے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومتِ ہند نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش میں تعینات ہندوستانی سفارت کاروں کے اہل خانہ کو احتیاطی طور پرہندوستان واپس آنے کی ہدایت دی۔

ہندوستان کا اسٹریٹجک اسٹیبلشمنٹ بنگلہ دیش میں انتہا پسند قوتوں کے دوبارہ سر اٹھانے اور اسلام پسند عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے ہندوستان کے خلاف سخت بیان بازی اورمعاندانہ رویے سے تیزی سے تشویش میں مبتلا ہو رہا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کچھ حدتک قائم استحکام کے خاتمے کی علامت ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مسلسل تعاون کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں 'یو این آئی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حکومتِ ماریشس کے سابق قومی سلامتی مشیر اورانڈین پولیس سروس کے ریٹائرڈ سینئر افسر شانتنو مکھرجی نے کہا کہ ہندوستان کی مشرقی سرحد کے پار حالیہ پیش رفت عسکریت پسندی کے خلاف حاصل کی گئی سخت محنت کی کامیابیوں کے الٹ جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بنیاد پرست انتہا پسند قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں دوبارہ منظم ہونے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر بین الاقوامی ’’جہادی‘‘ نیٹ ورکس کا مرکز بن جائے، جیسا کہ 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہوا تھا۔

مکھرجی نے خبردار کیا کہ ’’جس طرح گزشتہ سال رہا ہونے کے بعد ان گروہوں نے دوبارہ صف بندی کی ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اس سے نہ صرف بنگلہ دیش کے اندر تشدد کا خطرہ بڑھ گیا ہے بلکہ ہندوستان کے لیے سرحد پار سے نئے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔‘‘

ہندوستانی حکام خاص طور پر اس امکان پر فکر مند ہیں کہ بنگلہ دیشی عسکریت پسند گروہ پاکستان اور مغربی ایشیا کی انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ دوبارہ رابطے استوار کر رہے ہیں، جس سے پرانے علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس کے بحال ہونے کا خدشہ ہے جو حالیہ برسوں میں بڑی حد تک ختم کر دیے گئے تھے۔

 

Ads