دریں اثنا العربیہ کے ایک نمائندے نے اطلاع دی کہ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر نے انہدام کے عمل کی نگرانی کی۔
وفا کے مطابق مقامی ذرائع نے مبینہ طور پر بتایا کہ "ارد گرد کی گلیوں کو سیل کرنے اور علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں کے ساتھ ایجنسی کے احاطے پر حملہ کر دیا اور اس کے اندر موجود عمارت کو مسمار کرنے کے لیے آگے بڑھا۔"
ذرائع نے مزید کہا کہ افواج نے مسماری کی کارروائی کرنے کے ساتھ ہی انروا ہیڈکوارٹر کے اندر اسرائیلی پرچم بلند کیا۔
انروا نے کہا کہ جب بلڈوزر نے اس کے مشرقی یروشلم ہیڈکوارٹر کے اندر عمارات کو مسمار کرنا شروع کر دیا تو اسے ایک "بے مثال حملے" کا سامنا تھا۔
ترجمان جوناتھن فولر نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج نے صبح سات بجے مقامی وقت کے فوراً بعد احاطے میں "دھاوا بول دیا"۔
"یہ انروا اور اس کے احاطے کے خلاف ایک بے مثال حملہ ہے۔ اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔"
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا، "اونروا-حماس نے پہلے ہی اس جگہ پر اپنی کارروائیاں بند کر دی تھیں اور اب وہاں اقوامِ متحدہ کا کوئی اہلکار یا اس کی سرگرمی نہیں تھی۔ احاطے کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور اسرائیلی حکام نے اس پر قبضہ اسرائیلی اور بین الاقوامی قانون دونوں کے مطابق کیا۔"
