ٹرمپ کی جانب سے پوتن کو دی گئی یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ تقریباً چار سال سے جاری ہے اور وہاں امن معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس سے متعلق بتایا ہے کہ پیوٹن کو دعوت موصول ہو گئی ہے اور روس واشنگٹن سے ’تمام تر نکات کی وضاحت‘ چاہتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے دنیا بھر کی شخصیات سے رابطہ کیا ہے جبکہ اس بورڈ کی صدارت خود امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔
